وسعتِ ٹویٹر کی جانب سندھ کے نوجوانوں کی پرواز

کراچی (رپورٹ، سالار لطیف) جس رفتار سے سماجی روابط کی ویب سائٹس پروان چڑھی ہیں، آگاہی کو منزلیں طے کرکے عوام تک پہنچنے کے لئے تیز ترین وسائل بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت کے تناظر میں ہر معاشرے کے لئے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں بسنے والے فرد سماجی روابط کے ذرائع سے جڑے رہیں کیونکہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں دنیا بھر سے مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفت و شنید کا موقعہ ملتا ہے اور اس طرح انسان کو بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے۔ سماجی روابط کے ان ذرائع کے اس سمندر میں سے آپ کس راستے کا انتخاب کررہے ہیں یہ آپ کے اوپر منحصر ہے۔
یہ سائنس کی اسی نعمت ہی کا کرم ہے کہ آج دنیا بھر میں سیاسی و سماجی مسائل پر اسی جگہ مباحثے ہو رہے ہیں تو دوسری جانب یہی وسائل رائے عامہ قائم کرنے اور اس پر دلائل کی روشنی میں افہام و تفہیم سے تبادلہِ خیال کے طور بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں اس وقت مقبول ترین ویب سائٹ ٹویٹر ہے جہاں دنیا بھر کے بڑے نام پورا دن اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ محض یہی نہیں بلکہ اب تو حکومتوں کے اعلانات کے لئے بھی اسی ویب سائٹ کو موذون ترین ذریعہ سمجھا جا رہا ہے اور خاص طور پر کرونا وائرس کے دوران جب لوگ سماجی مفاصلہ اپنانے کے لئے بہانے ڈونڈھ رہے ہیں وہاں اسی ویب سائٹ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

ٹویٹر کا استعمال نہایت ہی تکنیکی عمل ہے کیونکہ یہ سماجی روابط کی دیگر ویب سائٹس کے بلکل ہی برعکس ہے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ دنیا بھر میں مقبولیت کی وسعتیں عبور کرنے والی ویب سائٹ فیس بک کا استعمال ٹویٹر کے بنسبت قدرِ آسان ہے اورجو لوگ اس کے عادی بن چکے ہیں ان کے لئے ٹویٹر کا استعمال ابتدائی مراحل میں آسان کام نہیں ہے۔ لحاظہ نئے صارف کے لئے اس بات کی ضرورت پھر بھی موجود رہے گی کہ وہ ٹویٹر کے تکنیکی پہلو کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس کو استعمال کرے وغرنہ فیس بک کی فریکوینسی پر سیٹ ہوا مائنڈسیٹ اس کو قبول کرنے میں بہت وقت لے سکتا ہے تب تک شاید ٹویٹر سے بات آگے نہ نکل جا چکی ہو۔

سندھ کے اندر بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جہاں اکثر و بیشتر لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں تاہم گذشتہ کچھ عرصے کے دوران سندھ میں سماجی روابط کے اس دریاء کا بہاؤ دیکھ کر مستقبل کا حال جاننے والے کچھ تکنیکی نجومیوں نے سندھ کے نوجوان کو فیس بک کے ہی ذریعے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اپنے آواز کو طاقت دینے اور دنیا بھر میں منوانے کے لئے ٹویٹر کا استعمال بھی لازم بنانا ہوگا ۔ خواہ اس تبدیلی کے لئے وقت درکار ہے اور اس سے متعلق کوئی بڑی پیش رفت پلک جھپک میں ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی سندھ کے نوجوان اس عمل میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
حال ہی میں ٹویٹر پر سندھ سے قافلوں کی صورت میں نوجوانوں کی آمد اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ وہ اب اس بات کو سمجھنے کے قابل ہو گئے ہیں کہ اپنی آواز دنیا تک کیسے پہنچانی ہے؟ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ 25 اپریل کو سندھ کے نوجوانوں کی جانب سے ٹویٹر پر جی ایم سید کو پیش کیے جانے والے خراجِ عقیدت میں حیرت انگیزحد تک کامیابی کے بعد ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ اپنے دیگر دوستوں کو بھی یہی مشورہ دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سماجی روابط کے استعمال سے متعلق سندھ میں ہونے والی اس “ٹرانسفورمیشن” میں رہنما کا کردار ادا کرنے والے ایک نوجوان خالد حسین کوری نے بتایا ہے کہ وہ سن 2009 سے ٹویٹر استعمال کرتا ہے۔ اس نوجوان کے بقول یہ وہ وقت تھا جب ٹویٹر پر سندھ کے کچھ بیوروکریٹس سرگرم ہوا کرتے تھے جو سماجی مسائل پر اپنا خاطر خواہ کردار ادا نہیں کرتے تھے جس کے بعد اس نے یہ محسوس کیا کہ ٹویٹر پر نوجوانوں کی کثیر تعداد ایک پراثر آواز کا باعث بن سکتی ہے۔

خالد حسین کوری نے بتایا کہ اس نے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے سن 2015 سے سندھ کے نوجوانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جس کے لئے اس کو فیس بک ہی کا سہارہ لینا پڑا تھا تاہم ٹویٹر کی تکنیکیوں کو سمجھانے کے لئے بھی اس کو بہت محنت کرنی پڑی ہے۔ اس حد تک کہ اس نوجوان نے بعض ٹرینڈز کو کامیاب کرنے کے لئے ٹویٹس بناکر بذریعہ فیس بک اپنے سماجی دوستوں تک پہنچایا تاکہ وہ ان سے رہنمائی حاصل کرکے ٹویٹر کے استعمال کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ خالد حسین کے مطابق ان کی محنت کے طفیل اب وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ سندھی نوجوانوں نے اب ٹویٹر کے استعمال کو سمجھنا شروع کیا ہے جس کے باعث اب وہ کسی بھی ٹرینڈ کو کم از کم ٹرینڈ لسٹ میں لانے کے قابل ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ان کی جانب سے تیار کردہ ٹرینڈ میں ان کو بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں ۔
اس نوجوان نے بتایا کہ کرونا وائرس کے خلاف حکومتِ سندھ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر ان کی حمایت میں تیار کردہ ٹرینڈ کی کامیابی سے ہم نے یہ محسوس کیا کہ حکومتِ سندھ اس طرح سے ملنے والی عوامی حمایت کے بعد مزید بہتر انداز میں کام کرنے لگی تھی۔

25 اپریل کوجی ایم سید کی برسی کے موقع پر سندھ کے نوجوانوں کی جانب سے ٹویٹر پران کو خراجِ عقیدت سے متعلق کامیاب ٹرینڈ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اس نوجوان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ ٹرینڈ تیار کرنے سے قبل نوجوانوں کا جذبہ دیکھ کر اندازہ تھا کہ 70 ہزار ٹویٹس کرلیں گے لیکن جب ٹرینڈ کی شروعات کا وقت آیا تو اس نے یہ محسوس کیا کہ پہلے ایک گھنٹے میں 6 ہزار ٹویٹس ہوئی ہیں تو اس رفتار سے آخر تک ایک لاکھ 70 ہزار ٹویٹس کا اندازہ تھا لیکن ٹرینڈ ختم ہونے پر اس ٹرینڈ کے تحت ہونے والی ٹویٹس کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 2 ہزار تھی جو ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔
خالد حسین اس کامیابی کا ایک باعث کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور خود ساختہ قرنطینہ والی صورتحال کو بھی سمجھتا ہے جس کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نوجوان اپنی ٹیم کے ہمراہ ٹرینڈ کے لئے کسی چھٹی کے دن کا انتخاب کیا کرتا ہے۔
خالد حسین کوری نے مزید بتایا کہ ٹویٹر سے متعلق نوجوانوں کی رہنمائی کے دوران مشکلات کا سامنہ اس لئے بھی نہیں ہوتا کیونکہ میں نے یہ کام شروع کرنے سے قبل اس سے منسلک تمام مسائل کے حل کے لئے تحریری جوابات تیار کر رکھے ہیں جو فوری طور پر ان کو بھیج دیتا ہوں تاکہ ان کی رہنمائی ممکن بن سکے لیکن اس کے باوجود بھی سب سے زیادہ سوالات ٹویٹر اکاؤنٹ کی بندش سے متعلق مسائل کے آتے ہیں جس کو دوبارہ کھلوانے کے لئے طریقہ کار سے آگاہ کرتا ہوں۔
سندھ میں نوجوانوں کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹس کے استعمال سے متعلق یہ نوجوان بے انتہا پرامید ہے۔ اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ منفی و مثبت پہلو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں لیکن سندھ کا نوجوان رہنمائی کو بہت حاضر دماغی سے سمجھتا ہے جس کے باعث میں بہت پرامید ہوں کہ وہ اس ذریعے کا مثبت استعمال کررہاہے۔
ایک سوال کے جواب میں خالد حسین کوری نے کہا کہ ہو سکتا ہے ہمارے اس عمل کو سیاسی طور پر کسی مخصوص سوچ کی عکاس سمجھا جاتا ہو لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔ اس نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں جدید ٹیکنالوجی کے اس طرح کے ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے سندھ کے نوجوانوں کو انتہاپسندی سے آزاد کرواؤں خواہ وہ مذہبی ہو سیاسی یا پھر سماجی۔ ہمیں صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرکے صحیح کی حمایت میں کھڑا ہونا ہوگا لیکن جو اس کو غلط کہے اس سے اختلاف رکھنے کے بجائے اس کے موقف کو عزت دینا ہوگی۔ خالد حسین کوری کی نظر میں یہ ایک طلسماتی منظر ہے جس کی تعمیر کے لئے وہ کوشان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں