کہیں آپ کو بھی تو “کرونا الرٹ” نامی ایس ایم ایس نہیں ملا؟

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ العمل خودکار تکنیکی نظام کے ذریعے ملک میں پانچ ہزار سے زائد ایسے افراد کی معلومات صوبائی حکومتوں کو فراہم کردی گئی ہے جن میں ممکنہ طور پر کرونا وائرس ہو سکتا ہے۔ ان افراد کی معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو جاننے کے لئے تیار کردہ ایک تکنیکی نظام کے ذریعے کی گئی ہے جو گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت کو دیا گیا تھا کہ وہ کرونا وائرس کے ممکنہ طور پر شکار ہونے افراد کی نشاندہی کرسکے۔
اس بات کا اظہار ایک ہفتہ قبل وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ٹیلی تھون پروگرام کے دوران بھی کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق موبائل سگنلز کے کھنبوں کی مدد سے ان افراد کی معلومات حاصل کی جاتی ہے جو گذشتہ کچھ عرصے کے دوران کرونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے ہوں۔ اس نظام کے تحت موبائل سگنلز کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی حد اس کھنبے سے تقریبن ایک سو کلومیٹر کے مفاصلے تک بتائی جا رہی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہی حد دو سو کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

اس حوالے سے روزنامہ ڈان نے اپنی ایک رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ موبائل کمپنی کے کھمبوں تک پہنچنے والی معلومات میں سے ممکنہ طور پر کرونا وائرس کے مشتبہ افراد کا فون نمبر ہی صوبائی حکومتوں کو فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس مریض تک رسائی حاصل کرکے انہیں قرنطینہ کرنے کا بندوبست کر سکے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جاتی۔
اسی طرح گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے خودکار نظام کے تحت ملک میں تقریبن 5 لاکھ 60 ہزار سے زائد ایسے افراد کو “کرونا الرٹ” کے زیرِ عنوان موبائل پیغام ارسال کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر کرونا وائرس کے کسی تصدیق شدہ مریض کے رابطے میں آئے ہیں تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھ سکیں جس کا متن کچھ اس طرح تھا کہ “معزز صارف، یہ محسوس کیا گیا ہے کہ آپ گذشتہ 14 دنوں کے دوران کرونا وائرس کے کسی مصدقہ مریض کے ساتھ رابطے میں آئے ہیں۔ اس لئے آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ احتیاطی طور پر اپنے آپ کو قرنطینہ کر دیں اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں