تباہ حال معیشت کو سنبھالنے کے لئے شراب پر خصوصی ٹیکس کا فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک/اے ایف پی) بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں نرمی دیکھی گئی۔ اس موقع پر لوگوں کو حسبِ ضرورت گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ملی اور کاروباری مراکز کھلنے لگے تو لوگوں کی بڑی تعداد شراب کی دکانوں پر جمع ہو گئی۔ 40 روز کے طویل لاک ڈاؤن میں نرمی سے قبل انتظامیہ کی جانب سے کاروباری مراکز اور مجمعہ والے مقامات پر احتیاطی تدابیر کے طور پر گول دائرے بھی لگائے گئے تھے تاکہ لوگ سماجی دوری کو یقینی بنا سکیں لیکن لوگوں کے ہجوم میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا اور شراب کی دکانوں پر سب سے زیادہ مجمعہ دیکھا گیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کلکتہ اور دہلی سمیت متعدد شہروں میں شہریوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے دوران پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا گیا۔ کلکتہ میں واقع ایک شراب کی دکان کے باہر طویل صف میں اپنی باری کا انتظار کرنے والے 55 سالا اسیت بنرجی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم گذشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن کے دوران تنہائی میں اپنا وقت گذار رہے تھے۔ سماجی دوری کو برقرار رکھنے کے لئے شراب ہمارے اندر قوت پیدا کرے گی۔

غازی آباد اور اترپردیش میں مجمعہ پر قابو نہ پانے کے بعد پولیس کی جانب سے شراب کی کھلی ہوئی دکانوں کو فوری طور پر بند کروا دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر کے بغیر ہی ہجوم میں کھڑے ہورہے ہیں اور اس سے وائرس کے پھیلنےکے خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ غازی آباد کے ایک پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایسا کرنے کے باوجود بھی لوگ دکانوں کے گردونواح میں گلیوں اور بازاروں میں گھوم رہے ہیں اور ہجوم کی صورت میں دکانیں کھلنے کا انتطار کررہے ہیں۔
بھارت میں کچھ ریاستوں کی حکومتوں کا یہ خیال تھا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہی سب سے پہلے شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ اس سے جمع ہونے والی ٹیکس سے ملک کے روینیو کو فائدہ پہنچ سکے اور ان حکمرانوں کے نزدیک کرونا وائرس کے باعث ملک کی تباہ حال معیشت کو طاقت دینے کے لئے یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شراب کی خرید و فروخت پر “خصوصی کرونا فیس” کی مد میں 70 فیصد مزید ٹیکس عائد کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں