جانئے، “سر میں پانی کی مقدار بڑھ جانا” کیا ہے؟


جامشورو (رپورٹ، شہروز عقیق) لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہِ نیوروسرجری کی جانب سے بچوں میں پیدا ہونے والی دماغی بیماری ” ہائیڈرو سیفالس” یعنیٰ “سر میں پانی کی مقدار کا بڑھ جانا” کے حوالے سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جناح پوسٹ گریجویٹ کالج اسپتال کے ماہر دماغی امراض پروفیسر ڈاکٹر رشید جمعہ خان، انڈس میڈیکل کالج کے چانسلر پروفیسر جسن محمد میمن، لمس کے وائس چانسلر پروفیسر بیکھا رام، ماہر دماغی امراض لمس پروفیسر ریاض احمد راجہ ودیگر نے کہا کہ نومولود بچوں میں یہ بیماری پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے اور ایک مشاہدے کے مطابق گزشتہ سال سندھ میں پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں میں سے اس بیماری سے متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً 13.9 فیصد تھی جو تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس بیماری سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ماں بنےی والی خواتین فولک ایسڈ کا استعمال اپنی روز مرہ کی خوراک میں شامل کریں۔ انونں نے مزید کہا کہ اس بیماری سے متاثر بچوں کا پیدائش سے پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے جسکا باقاعدہ علاج کیا جائے تو اسکے نقصانات کم ہوتے ہیں۔ اس بیماری کے باعث بچہ ایک بڑی معذوری کا شکار ہوجاتا ہے جسے زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں اس بیماری پر لاکھوں ڈالر ماہانہ خرچ کیا جارہاہے تاکہ بچوں کو معذور ہونے سے بچایا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق گذشتہ سال لمس کے شعبہ دماغی امراض میں اس بیمارہ میں مبتلا 400 بچے داخل ہوئے جن میں سے 375 کا آپریشن کیا گیا لیکن آپریشن کے بعد بھی بہت سارے مسائل درپیش رہتے ہیں۔ انڈس میڈیکل کالیج کے چانسلر پروفیسر جان محمد میمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے معاشرے کا آج بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو صحت کی سورلت میسر ہے یا نہیں؟ تو جواب آج بھی نفی میں ہے اور یہی ہمارا المیہ ہے۔ جب تک ہم اپنے تحصیل سطح کے اسپتالوں کو بہتر نہیں کرتے ہمارا عام آدمی علاج و معالجے کی بہتر سوہلیات سے مستفید نہیں ہوسکتا۔ انوحں نے کہا کہ حکومت نے پی ایم ڈی سی کو ختم کردیا ہے جسکے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم طب کے شعبہ سے منسلک ماہر آج تک ایسا کوئی ادارہ بنانے میں کامیاب ہی نہیں ہوسکے ہیں جو ہمارے مسائل کو حل کرے جیسا کہ پاکستان اینجینرنگ کونسل اپنا کام بخوبی سر انجام دے رہی ہے۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر سیل عالمانی، پروفیسر ڈاکٹر ساجدہ یوسفانی، ڈاکٹر مبین احمد و دیگر نے بھی خطاب کیا اور تقریب کے اختتام میں سوال جواب کا بھی سیشن ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں