دادو کے علاقہ کچے میں سندھو دریا سے سیلابی ریلا داخل ہونے سے 50 سے زائد گاؤں زیر آب آگئے جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصل بہی پانی کی لپیٹ میں آگئی، متاثرین نے نقل مکانی شروع کردی۔

دادو (رپورٹ: فیاض جعفری)  علاقے کچے علاقے میں سندھو دریا سے درمیانے درجے کا سیلاب داخل ہونے سے علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں، سیلاب متاثرہ گاؤں میں گل محمد کوریجو، غلام حسین مستوئی، شاہد لونڈ، بلوچ جتوئی، نبن خان لونڈ اور گاؤں حسن ماچھی سمیت 50 سے زائد گاؤں شامل ہیں، درمیانے درجے کے سیلاب کے باعث کاشتکاروں کی ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصل بہی پانی کی لپیٹ میں آگئی، کاشتکاروں کی تیار شد فصل جوئر، کپاس اور گوار سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس کے باعث متاثرین کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنہ ہے، ادھر سیلابی ریلا داخل ہونے کے باوجود بہی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ،  سندھ حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر دادو راجہ شاہ زمان کہڑو کو سیلاب متاثرین کی مدد کی مد میں فنڈجاری کیے گئے تھے تاحم  ضلعی انتظامیاں کی جانب سے سیلاب متاثرین کی کوئی مدد نہیں کی گئی اور نہ ہی سیلاب متاثرہ علاقوں کا کوئی جائزہ لیا گیا ہے علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں