عمرکوٹ کے سماج سدھارک صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ہرچند رائے لکھانی کی 104ویں سالگرہ منائی گئی۔

عمرکوٹ (رپورٹ: سہیل کنبھر) عمرکوٹ کے نین بسیرا ہائوس پر سماج سدھارک صدارتی ایوارڈ یافتہ غریبوں کے  مسیحہ سمجھےجانےوالے اور مذہبی رواداری کے پرچار کو عام کرنےوالے ڈاکٹر ہرچند رائے لکھانی کی 104ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ،جس میں مختلف مکبتہ فکر سے تعلق رکھنےوالے شخصیات نے شرکت کی  جس میں مشہور ڈاکٹر لالچند کھتری،ڈاکٹر علی نواز شاہانی،سیٹھ گھنشام داس مہیشوری،برج لال،رسول بخش رحمدانی،کریم منگریو،ڈاکٹر ہرچند رائے سوٹھڑ کے صاحبزادے مہندردیو لکھانی  و دیگر نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر ہرچند رائے کی خدمات کو سرہاتے ہوئے ڈاکٹر علی نواز شاہانی،ڈاکٹر لالچند کھتری،رسول بخش رحمدانی،پونجراج کیسرانی،کریم منگریو نے کہا کہ سرگواسی  ڈاکٹر ہرچند رائے کو انسانی خدمات کے جذبے پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب اس پورے خطے کی پہچان تھے ،انہوں ہمیشہ امیر غریب کو ایک ہی نظر سے دیکھا ڈاکٹر ہرچندرائے آخری دم تک مذہبی روادری کے پیروکار تھے ، انہوں نے کبھی بھی سہارے کی تلاش نہیں کی وہ اپنے ہی بلبوتے پر کام کرنے کے عادی تھے  اور ڈاکٹر ہرچندرائے نے سیاسی میدان میں بھی ایک الگ مقام پایا جب میونسپل چئیرمین کے عہدے پر فائض ہوئے تو انہوں نے عوام کی بلاتفریق خدمت کی جس کا زندہ مثال انکی سالگرہ یا ورسی کے موقع پر ہر مذاہب لوگ شرکت کرنا  ہے۔ مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر ہرچند رائے لکھانی نے ٹی بی کےخلاف جنگ کی جوکہ آج تک جاری ہے۔ آخر میں سرگواسی ڈاکٹر ہرچند رائے لکھانی  کے صاحبزادے مہندردیو لکھانی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی ایک کھولی کتاب کی طرح تھی انہوں کے بتائے گئے اصولوں پر چل کر اچھے شہری بن سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں