کراچی کے ضلع ملیر میں آرٹیکل 149 کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔

ملیر( رپورٹ: منظورسولنگی) سندھ کو آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کے حوالے کرنے اور امکانی تقسیم کے خلاف گذشتہ روز ضلع ملیر میں سیاسی سماجی جماعتوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے اور دہرنے دیے گئے ۔سندھ ترقی پسند پارٹی، قومی عوامی تحریک، سول سوسائٹی گلشن حدید کی  طرف سے نکالی گئی ریلیاں پپری، گلشن حدید، رزاق آباد اور دیگر علاقوں سے ہوکر پپری قومی شاہراہ پر پہنچ کر دہرنے میں تبدیل ہو  گئیں،  اس سلسلے میں سب سے بڑی ریلی عوامی تحریک کی جانب سے پپری کے مین چوک سے مرکزی رہنما لعل جروار، اسماعیل خاصخیلی،مریم گوپانگ اور منان شیخ کی قیادت میں نکالی گئی،  جس میں سندھیانی تحریک کے کارکنان سمیت علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی احتجاج کرنے والوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے وہ سندھ دشمن منصوبوں ، سازشوں ، امکانی تقسیم اور آرٹیکل 149 اور کراچی کمیٹی کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے ، ریلی سے  خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی رہنما لعل جروار نے کہا کہ پاکستان بننے کے وقت سے ہی سندھ کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں جن کے خلاف سندھیوں نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے ان سازشوں کو ناکام بنایا ہے لیکن اس وقت ایم کیو ایم سے ملکر پی ٹی آئی بھی سندھ کے خلاف سازش کر رہی ہے جس کا مقدر ناکامی ہے انہوں نے کہا کہ ہم رسول بخش پلیجو اور قانون کے طالب علم ہیں آپ ہمیں بےوقوف نہیں بنا سکتے آرٹیکل 149 میں کہاں لکھا ہے کے سندھ کی خودمختاری کو ختم کر کے اس کو وفاق کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟ سندھ کا بچہ سندھی رکھوالی کرے گا اس موقع پر سندھیانی تحریک کے مرکزی صدر مریم گوپانگ، یاسمین چانڈیو،منان شیخ اور دیگر نے خطاب کیا دوسری جانب سندھ ترقی پسند پارٹی کے شبیر چانڈیو، رانجھو خان جکھرانی، سھیل ابڑو،اختیار سومرو کی کی قیادت میں گھگھر سے ریلی نکالی گئی جس میں کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی سندھ کے خلاف ہر سازش کی مذمت کرتے ہوئے مزاحمت کا اعلان کیا ۔ جئی سندھ تحریک  اور  گلشن حدید سے بھی سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی علی خاصخیلی کی قیادت میں نکالی گئی اور قومی شاہراہ پر دہرنا دیا گیا،  اس موقع پر سندھ پر جانیں نچھاور کرنے اور سندھ دشمنوں کے ناپاک عزائم کی سرکوبی کے وعدے کرتے ہوئے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے بازی کی مقررین کا کہنا تھا کہ الٹے سیدھے پارٹ ہمیں نہیں پڑہائے جائیں جو قانون اور حکومت پارٹی سندھ کو تقسیم کرے گی اس کو کبھی ہم نہیں مانیں گے سندھی باشندوں کا صرف ایک ہی قانون اور آئین ہے کے سندھ تاریخی اور خودمختار ریاست ہے اور کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے۔  دوسری طرف گھگھر سے فیاض اتیرو، اشفاق چنڑ، کاشف خاصخیلی کی قیادت میں قومی عوامی تحریک کی نکالی گئی ریلی قومی شاہراہ سے نعرے لگاتے ہوئے کراچی پریس کلب کی جانب روانہ ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں