کراچی پریس کلب پر سید خورشید شاہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر ) پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ ہم احتساب کے مخالف نہیں،احتساب ضرورکریں مگراحتساب سب کا یکساں ہو،موجودہ وفاقی سلیکٹڈ حکومت کا دوہرا معیاراورسیاسی انتقام پرمبنی احتسابی عمل کسی طورمنظور نہیں، یہ کیسا احتساب ہے کہ جس کے قوانین آصف علی زرداری,فریال تالپور,خورشید احمد شاہ,یوسف بلوچ اور آغا سراج درانی پر تو لاگو ہیں مگر علیمہ باجی,جہانگیر ترین ، پرویز خٹک، خسروبختیار,حسنین مرزا دیگر پر لاگو نہیں کیے گئے۔ان خیالات کا اظہارپیپلزپارٹی کراچی کے صدر اور صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کراچی پریس کلب پرپیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید احمد شاہ کی گرفتاری کے خلاف پیپلزپارٹی کراچی کی جانب سے منعقد کئے گئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مظاہرین سے پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل وقارمہدی،نائب صدرراشد ربانی،کراچی کے سیکریٹری جنرل جاوید ناگوری پی پی پی شعبہ خواتین کراچی کی صدر شاھدہ رحمانی، حبیب الدین جنیدی، آصف خان، شکیل چوہدری ، ایم پی اے لیاقت آسکانی، خلیل ھوت، اقبال ساند، جاوید شیخ, پیپلز یوتھ کراچی کے صدر راشد خاصخیلی اور دیگر عہدیداروں نے بھی خطاب کیا ۔ صوبائی وزیرسعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کو تو ابتدائی تفتیش سے بھی پہلے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور PTI کے کرپٹ لوگوں کو ریفرنس دائر ہونے کے بعد بھی گرفتار نہیں کیا جاتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب خورشید احمد شاہ نے بلیک میل ہونے سے انکار کیا تو ان کی زوجہ اور بیٹیوں کو تحقیقات میں شامل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں تا کہ وہ دباﺅ کا شکار ہو کر موجودہ حکومت کے سیاسی و انتقامی ہتھکنڈوں کے آگے ہتھیارڈال دیں ۔ پی پی پی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی کی نا اہل حکومت نے ملک کو معاشی بد حالی کے بلکل آخری دہرائے پر لاکر کھڑا کردیا ہے ان کے یک طرفہ اور انتقامی احتسابی عمل نے کاروباری طبقے کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب سلیکٹرز بھی ان کو لا کر پچھتارہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب سلیکٹرز خود عمران نیازی کو نکال باہر کریں گے۔ صوبائی نائب صدر راشد حسین ربانی نے کہا کہ ہم نے جنرل ایوب، جنرل ضیاءاور مشرف کی آمریت کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ یہ سلیکٹرز عمران نیازی کے جھوٹے مقدمات اور گرفتاریاں پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنوں کے کیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ پی پی پی کراچی کے جنرل سیکریٹری جاوید ناگوری نے کہا کہ یہ احتسابی عمل نہیں بلکہ صرف میڈیا ٹرائل ہے جو کہ میڈیا پر اربوں روپے کے الزامات سے شروع ہو کر چند کروڑ روپوں پر آکر رک جاتا ہے اور پھر عدالتوں میں یہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی سکھر کے رہنما نزیر سومرو نے کہا کہ گراس روٹ کے ورکرز ان سے بے حد عقیدت اور بے انتہا محبت کر تے ہیں۔ ۔مظاہرین سیاسی انتقام نا منظور یک طرفہ احتسابی عمل نامنظور کے نعرے لگا رہے تھے انھوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور پیپرز اٹھا رکھے تھے جن پر شریک چیئرمین آصف علی زرداری، فریال تالپور، سید خورشید احمد شاہ کو رہاکرو کے نعرے درج تھے۔ پی پی پی کراچی کے نائب صدر مرزا مقبول، سردار خان، زوالفقار قائم خانی، اسلم سموں,علی احمد, دل محمد، کرم اللہ وقاصی، ممتاز بھنگرو، ڈاکٹر نصر اللہ بلوچ، یوسف جاگیرانی، جمال سومرو، مصری خان چاچڑ کے علاوہ عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں