ملیر: امن فاؤنڈیشن کے ملازمین 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، احتجاج۔

کراچی: ملیر (رپورٹ: منظور سولنگی) امن فاؤنڈیشن کے ملازمین کا شاہ لطیف اسٹیشن پرایمبولینس گاڑیاں روک کر تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے احتجاج کیا۔ ڈرائیورز اور ٹیکنیشن کا کہنا تھا کہ   3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے باعث گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے تنخواہوں کے لیے احتجاج کرنے پر ہمیں نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی امن فاؤنڈیشن کا ایک معاہدے کے تحت سندھ حکومت کے ساتھ الحاق کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے امن فاؤنڈیشن کا نام تبدیل کر کے سندھ ریسکیو میڈیکل رکھا گیا اور سندھ حکومت کی جانب سے مزید 200 گاڑیاں دینے کا اعلان کیا گیا لیکن الحاق سے ملازمین 3 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی سے محروم ہو گئے ۔اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے ٹیکنیشن آصف حسین، محمد نکاش،،زہیب، عرفان، غلام مصطفیٰ، ڈرائیورز عبدالرشید، شبیر احمد اور دیگر نے صحافیوں کو  بتایا کہ گذشتہ رات سے ساری گاڑیاں 3 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر روک دی گئی ہیں کوئی بھی گاڑی اپنی لوکیشن پر نہیں گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تنخواہیں نہیں ملتیں تب تک ایمبولینسز اسٹیشن پر کھڑی رہیں گیں، امن فاؤنڈیشن کی کراچی میں بہترین خدمات رہیں ہیں عوام کو بآسانی ایمبولینس سروسز دستیاب تھی جو سندھ حکومت کے ساتھ الحاق کے بعد معاشی بحران کا شکار ہوگئی ہے حکومت سندھ کی جانب سے کئے گئے 200 گاڑیاں کا اعلان دہرے کا دہرا رہے گیا بلکہ گاڑیاں بھی 11 سے 5 کردی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں نہ ملنے سے ہمارے گھروں میں فاقے پڑھ گئے ہیں مجبور ہوکر احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے انتظامیہ کی جانب سے تنخواہوں کا مطالبہ پورا کرنے کے بجائے ہمیں نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں