ملیر، ٹڈی دل کی یلغار نے کاشتکاروں کو پریشان کردیا

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) کراچی کے ذرعی علاقے کاٹھوڑ اور گڈاپ ایک بار پھر ٹڈی دل کی زد میں آگئے ہیں۔ ٹڈی دل نے کئی باغات و زرعی زمین میں کھڑی فصلوں پر یلغار کردی جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ٹڈی دل ضلع ملیر کے دیگر زرعی باغات کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے جس کے باعث کاشتکار شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ واضع رہے کہ رواں سال کے دوران ٹڈی دل کا یہ دوسرا حملہ ہے لیکن محکمہِ زراعت ملیر کا عملہ غائب ہے۔
کاشتکاروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹڈی دل ہر طرف فصلیں برباد کر رہی ہے۔ درختوں اور پودوں کے پتوں سمیت سبزہ ہڑپ کرتی جا رہی ہے۔ یہ جہاں بھی حملہ آور ہو رہی ہے وہاں آسماں میں بادلوں کی طرح چھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ماہ قبل بھی ٹڈی دل کا حملہ ہوا تھالیکن محکمہِ زراعت سندھ کی طرف سے کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایا گیا تھا اور متاثرہ علاقوں میں فضائی اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے ٹڈی دل کا مکمل خاتمہ بھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اس وقت بھی کاشتکاروں کی طرف سے حکومت سے مدد کی اپیل پر وزیرِ زراعت سندھ اسماعیل راہو نے کہا تھا کہ سندھ حکومت اس سلسلے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ ٹڈی دل کو پکڑیں اور کھا لیں۔ کیا اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگا؟
کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن پہلے ہی لوگوں کو معاشی طور پر دیوالیہ کر چکا ہے۔ اب یہ نئی آفت ٹوٹ پڑنے پر لوگ سخت پریشانی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹڈی دل کو ختم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے تو پہلے سے ہی پانی و بجلی کے بحران میں مبتلا ملیر کے کاشتکار معاشی طور پر مزید تباہ ہوجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں