حمیرا بی بی کا قتل درندگی کی بدترین مثال ہے، احسان علی کھوسو

ملیر (پریس رلیز) مقتولہ حمیرا کیس کی عدالت میں پیشی کے موقع پر مقتولہ کے لواحقین کی جانب سے پیپلز ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کی قانونی ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔ پیشی کے دوران پیپلز ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کے چیئرمین نے احسان علی کھوسو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حمیرا بی بی کو درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل کرنے والے ملزمان کو سزا دلانے تک پیپلز ہیومن رائٹس آرگنائیزیشں لواحقین کی قانونی اور جائز مدد کرتی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بروقت مقدمہ درج نہ کرنا اور ایف آئی آر کا تین دن کے بعد داخل ہونا، ایف آئی آر کے لیے گیارہ گھنٹوں تک ایک بوڑھے باپ اور اس کی آٹھ ماہ کی حاملہ بیٹی کو تھانے میں بٹھائے رکھنا ضلع پولیس ملیر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ احسان کھوسو نے مزید کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایسی لاپرواہی کرنے والے افسر کو نوکری کرنے کا کوئی حق ہے جو اپنے علاقے میں ہونے والے دردناک واقعے سے تین دن تک غافل رہے۔
خیال رہے کہ حمیرا بی بی کو اپنے سسرال کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ جلانے کا واقعہ ضلع ملیر میں پیش آیا تھا جس کے بعد وہ کچھ روز تک ہسپتال میں زیرِ علاج تھی لیکن زخموں کے تاب نہ سہتے ہوئے حمیرا بی بی فوت ہو گئی تھی جس کے بعد مقتولہ کے والد غلام ربانی کو انصاف دلانے کے لئے پیپلز ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کے چیئرمین احسان علی کھوسو قانونی چارہ جوئی کے لئے پیش پیش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں