لاک ڈاؤن سے متعلق وفاق کے ساتھ چلیں گے، 11 مئی سے فجر سے شام 5 تک دکانیں کھلیں گی۔


کراچی، ویب ڈیسک

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دیہی علاقوں اور گلی محلوں کی تمام دکانیں کھلیں گیں لیکن 9 مئی سے پہلے جو کاروبار اور دفاتر بند تھے وہ بند رہیں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری جب بھی باہر جائیں ماسک پہننے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد باہر جانے سے گریز کریں۔

وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں ہم نے 5 ہزار 532 ٹیسٹ کیے جس کے بعد مجموعی طور پر 81 ہزار 810 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، پچھلے 24 گھنٹوں میں 598 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 9 ہزار 691 ہوگئی ہے اور 77 افراد صحتیاب ہوئے جبکہ 5 لوگ وفات پاگئے ہیں جس سے اموات کی مجموعی تعداد 176 ہوگئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے صوبوں کو اختیار دیا کہ صورتحال دیکھ کرفیصلہ کرلیں، ہماری کچھ چیزیں وفاق کو پسند نہیں ہم پھر بھی ساتھ کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی ) کے اجلاس میں جب کورونا وائرس سے متعلق فیصلے ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ ہمیں جذبات کے بجائے اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے لینے چاہیئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جرمنی میں اس وقت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جب کیسز کی تعداد یومیہ 3 ہزار تھے، اٹلی نے اس وقت نافذ کیا جبکہ روزانہ 1600 کیسز سامنے آرہے تھے جبکہ امریکا میں اس یومیہ 18 ہزار کیسز سامنے آنے کے بعد لاک ڈاؤن نافذ ہوا تھا اس لیے وہاں صورتحال خراب ہوئی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جب انسان حالت جنگ میں ہوتا ہے تو باقی چیزیں پیچھے چلی جاتی ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تو بھی کیسز کی تعداد ابھی بھی سست روی سے اوپرجارہی ہے، 14 اپریل کو ہم نےکچھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی تھی اور ہم 660 صنعتیں کھول چکے ہیں ، ہم کاروبار بند نہیں کرنا چاہتے اور نہ کسی سے ہماری دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کے ساتھ تعمیراتی صنعت کا فیز ٹو کھولنے، مخصوص او پی ڈیز کھولنے، فجر کے بعد سے شام 5 بجے تک دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ہم نے ہفتے میں 3 روز 100 فیصد لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز دی تھی لیکن 2 روز کے لیے دکانیں بند کرنے پر اتفاق ہوا اور ہفتی اور اتوار کو 100 فیصد لاک ڈاؤن ہوگا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں اور گلی محلوں کی تمام دکانیں کھلیں گیں جبکہ شاپنگ مالز اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز بند رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے رابطے میں ہیں اور میڈیا کے توسط سے کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت انہیں قرضے دے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ جو بھی کاروبار اور دفاتر 9 مئی سے پہلے بند تھے وہ بعد میں بھی بند رہیں گے، اجتماعات، سنیما اور عوامی مقامات بند رہیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ طریقہ کار 31 مئی تک نافذ رہے گا، میں یہ فیصلے قبول کرتے ہوئے ڈر رہا ہوں لیکن قومی سلامتی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے احترام میں ہم وفاق کے فیصلے پر 100 فیصد عمل کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں