ٹھٹھہ، ضلعی نظامِ صحت اور علی محمد اڈیرائی کی دہائی

ٹھٹھہ (نامہ نگار، رشید جاکھرو) سندھ کے مشہور شاعر علی محمد اڈیرائی جن کا تعلق ضلع ٹھٹھہ سے ہے۔ ان کی شاعری کے گیت سندھ کے نامور گلوکاروں نے گائے جو پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔ ان کے لکھے گئے گیتوں پر لوگ جھوم اٹھتے ہیں۔ آج بھی ان کی سندھی شاعری کے گیت بچوں اور بڑوں کی زبانوں پر ہوتے ہیں۔
ان دنوں علی محمد اڈیرائی مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کئی دنوں سے اس شاعر کی طبعیت بہت خراب ہے جس کے بعد گذشتہ روز ان کی حالت مزید خراب ہوگئی۔ ان کو کافی دیر گھارو کے دیہی صحت مرکز میں رکھا گیا جہاں سے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا اور کراچی کے ہسپتال منتقل کردیا۔ حیرت تو یہ ہے کہ ضلع ٹھٹھہ تاریخی ضلع ہے لیکن اس ضلع کو ایک ایم پی اے صاحب توڑ کر چلے گئے تھے اور سجاول کو الگ ضلع بنا دیا گیا تھا۔ ان دونوں اضلاع میں سب سے بڑا ہسپتال مکلی سول ہسپتال ہے جس کو بھی چند سال قبل ایک غیرسرکاری تنظیم کے سپرد کردیا گیا۔ صرف ہسپتال کی تعمیر پر زیادہ کام کیا گیا لیکن عوام کی سہولت کی خاطر کراچی کی ہسپتالوں جیسی سہولیات کیوں میسر نہیں کی گئیں؟

ضلع کے ہسپتالوں کی حالت بہتر کرنے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ مریضوں کو کراچی جانے کا لیٹر تھما دیا جاتا ہے۔ میں نے ایسے مریض اس ہسپتال سے کراچی جاتے دیکھے ہیں جن کے لئے چندہ جمع کرکے کراچی ہسپتال بھیجا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا یہاں انسان نہیں رہتے؟ گذشتہ روز بہت افسوس ہوا کہ سندھ کا بڑا شاعر سرکاری ایمبولینس میں کراچی بھیجا گیا۔
علی محمد اڈیرائی شیرازی برادران اور شہید بے نظیر بھٹو سے بہت لگاؤ رکھتا ہے۔ شیرازی برادران سے کئی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں اور وہ بھی اس شاعر کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ پپلز پارٹی کی ضلعی قیادت بھی اس شاعر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہےلیکن آج شاید کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ اتنا بڑا شاعر کراچی کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہم سب کو اس عظیم شاعر کی صحتیابی کے لئے دعا کرنی چاہیے۔

دوسری جانب تحصیل گھوڑا باری کے علاقے ور شہر کے مضافاتی گاؤں رسول بخش بلوچ  میں ایک لڑکی کو سانپ نے ڈس لیا جس کے بعد لڑکی مکی ولد شریف بلوچ کو وہاں سہولیات نہ ملنے پر فوری طور پر  مکلی ہسپتال پہنچایا گیا۔ لڑکی کے ورثاء سانپ کاٹنے کی ویکسین کے لئے دو گھنٹے دربدر ہوتے رہے لیکن ڈاکٹروں نے ویکسین دینے سے انکار کردیا اور مکی بلوچ تڑپ تڑپ کر جان سے گئی۔مکی بلوچ کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہی سانپ کے ڈسے ہوئے دو مریض لائے گئے تھے جن کو کسی اثر رسوخ والی شخصیت کے فون پر فوری ویکسین منگوا کر دی گئی تھی لیکن غریب مکی بلوچ کو ویکسین نہیں دی گئی جس کے باعث مکی نے دم توڑ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں