ملیر، حب ندی سے پانی بھرتے ہوئے دو عورتیں ڈوب گئیں

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) کوہستانی علاقے یونین کونسل موئیدان میں واقع خان محمد خاصخیلی گوٹھ کے مکین گذشتہ کئی سالوں سے پانی کی شدید قلت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے وعدے کے باوجود پانی نہ دینے پر شدید گرمی میں گوٹھ سے 4 کلو میٹر پیدل چل کر حب ندی سے پانی بھرنے کیلئے جانے والی 2 عورتیں ڈوب کر ہلاک ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ حسب روایت 8 سے زائد عورتیں پانی کے برتن لیکر حب ندی پہنچیں جہاں پاؤں پھسلنے سے 2 عورتیں 25 سالہ مکھاں زوجہ عمر خاصخیلی اور 14 سالہ سمیرہ بنت رزاق خاصخیلی ڈوب گئیں۔ ڈوبنے والی عورتوں کو وہاں موجود دیگر عورتوں نے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ ناکامی کے بعد وہ فوری طور پر قریبی گاؤں روتی ہوئی پہنچیں جہاں سے خان محمد خاصخیلی گوٹھ کے مکینوں کو اطلاع کردی گئی۔
ورثاء نے پہنچ کر لاشین حب ندی سے نکالیں۔ لاشیں مذکورہ گوٹھ پہنچنے پر صف ماتم پچھ گیا۔ افطار کے بعد فوتی عورتوں کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس سلسلے میں علاقے کے سرگرم سماجی تنظیم سلال ویلفیئر کے رہنما وحید سکندر چھٹو نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ وہی گوٹھ ہے جہاں ایک سال قبل آلودہ پانی پینے سے 4 بچوں کی اموات ہوئی تھی۔ ضلع کونسل کراچی کے چیئرمین سلمان عبداللہ مراد، ضلعی کونسلر حاجی علی احمد جوکھیو نے افسران سمیت پہنچ کر نومبر 2019 میں وعدہ کیا تھا کہ مذکورہ گوٹھ سمیت قریبی گوٹھوں کو پانی کے تین بور لگا کر پانی فراہم کیا جائیگا جس پر تاحال عمل نہیں ہوسکا۔
گوٹھ کے مکینوں عمر خاصخیلی، رزاق خاصخیلی، نواز خاصخیلی و دیگر کا کہنا تھا کہ ہم غریب دورِ جدید میں بھی بنیادی سہولیات و پانی جیسی نعمت سے محروم ہوکر جانوروں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ہم مزدوری پر جاتے ہیں جبکہ ہماری بچیاں پانی کے برتن اٹھائے میلوں پیدل چل کر پانی بھرنے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ روز پانی بھرتے ہوئے حب ندی میں بچیاں ڈوب کر ہلاک ہوئیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی کا نوٹس لیکر گوٹھ کو پانی فراہم کیا جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں