ملیر، بھٹائی آباد میں پولیس کی کارروائی، ایک مغوی بازیاب

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) تھانہ شرافی گوٹھ کی حدود شاہ علی گوٹھ سے ایک ہفتہ قبل 14 سالہ بچی سلمیٰ دختر محمد عرس اغوا ہو گئی تھی جس کا مقدمہ 10 مئی کو تھانہ شرافی گوٹھ میں ان کے والد محمد عرس کی مدعیت میں دفعہ 365کے تحت درج کروایا گیا تھا۔ مقدمے میں مغویہ کے والد کا کہنا تھا کہ وہ باڑے پر کام کرتا ہے۔ باڑے پر کام میں مصروف تھا تو اس کی اہلیہ نے فون پر اطلاع دی کہ بیٹی گم ہو گئی ہے۔ میں نے گھر جا کر پڑوس اور رشتہ داروں سے معلومات لی لیکن کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ میرے پرانے پڑوسی رحیم، ظفر پسران، الہڈنو، رؤف اور اس کی بیوی مہک میری بیٹی کو بہلا پھسلا کر زنا کی نیت سے اغواء کر کے لے گئے ہیں۔
اس نے مزید یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کی بیٹی سلمیٰ گھر میں موجود 50 ہزار روپے بھی ساتھ لیکر گئی ہے۔ ایف آئی آر کے بعد پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی تھی۔ گذشتہ روز تھانہ شرافی گوٹھ کے ایس آئی او انسپکٹر غلام حسین سہتو نے پولیس کے ہمراہ بھٹائی آباد میں کامیاب کارروائی کر کے اغواء ہونے والی لڑکی کو بازیاب کرا لیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ کارروائی کے دوران ملزمان اندہیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں