سندھ مسلم لاء کالج کے طلباء کا گذشتہ تین سالوں سے امتحانات نہ لینے کے خلاف سوشل میڈیا پر سراپا احتجاج۔

کراچی، ویب ڈیسک

سندھ مسلم لاء کالج کے طلباء کا گذشتہ تین سالوں سے امتحانات نہ لینے کے خلاف سوشل میڈیا پر سراپا احتجاج ہیں۔

طلباء کا کہنا ہے کہ 2017 سے پانچ سالہ اور 2018 سے تین سالہ ایل ایل بی کے کورس میں تعلیم حاصل کررہے ہیںلیکن ان تمام طلباء کے امتحانات نہیں لیئے گئے جس سے ہزاروں طلباء کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔

طلباء کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب تمام یونیورسٹیوں نے آن لائن سسٹم چلا کر طلباء کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن سندھ مسلم لاء کالج نے اب تک کوئی ایسی پالیسی نہیں دی ہے۔

یوناٹیٹڈ ٹی وی کے رابطہ کرنے پر طلبہ رہنما میاں الیاس عباسی،آغا امیر مختیار اور بلاول منگی کا کہنا تھا کہ طلبہ کی تعلیم تباہ کی جا رہی ہے اور اب طلبہ کے صبر لبریز ہو چکا ہے۔ اگر کالج انتظامیہ اور یونیورسٹی نے ہمارے احتجاج کا نوٹس نہیں لیا تو ہم عید کے بعداپنا احتجاج تیز کردیں گے۔

طلباء رہنماؤں نے مزید بتایا کہ ہم ہر سال امتحانات لینے کی سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی داخل کرتےہیں لیکن اب تک کوئی حتمی ایکشن نہیں ہوا۔

طلباء رہنماؤں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ، وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اورمشیرِ برائے قانون مرتضیٰ وہاب سے مطالبہ کیاکہ طلبہ کے ساتھ انصاف کیا جائے اور سندھ مسلم لاء کالج کو ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ کا درجہ دے کر ہمیشہ کے لیے مسئلہ حل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں