ملیر، شاہنواز گوٹھ کچرا کنڈی میں تبدیل، علاقہ مکین سراپا احتجاج

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) یونین کونسل پپری کے شاہنواز گوٹھ میں جگہ جگہ گٹر ابلنے سے سڑکیں اور گلیاں بھی گٹر کے گنڈے پانی میں ڈوب کر تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ اس حوالے سے عوامی تحریک کے رہنما عبداللہ ببر، غلام اللہ بگھیو، عبداللہ ترک، میر محمد مری، عزیز لانگاہ اور دیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پپری شاہنواز گوٹھ مسائل سے دوچار ہو گیا ہے۔ گٹر ابلنے سے لوگ اذیت ناک حالت میں مبتلا ہیں۔ ضلع کونسل کراچی اور یوسی انتظامیہ عوامی مسائل کے حوالے سے عدم دلچسپی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عالمی وبا کی وجہ سے سب اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی کمی، ٹوٹی سڑکیں، کیچڑ کے پھیلنے، تعلیم، صحت سمیت دیگر مسائل کے باعث ان کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔ گوٹھ کا مین روڈ پانی میں ڈوب جانے سے راہگیروں کو دشواری کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوٹھ کے کمیونٹی سینٹر کا 45 لاکھ کا ٹینڈر 6 ماہ قبل جاری کیا گیا تھا لیکن ابھی تک کمیونٹی سینٹر کی تشکیلِ نو کا کام التوا کا شکار ہے جبکہ عمارت کے ارد گرد گٹر کا پانی جمع ہے جس کے باعث ضلع کونسل کراچی کی جانب سے دی گئی ڈسپنسری بھی 2 سال کے زائد عرصے سے بند ہے۔
رہنماؤں نے وزیرِاعلیٰ سندھ، ضلع کونسل کراچی کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ حکام سے گوٹھ کے مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں