ملیر، سومار گوٹھ سے بچے کی لاش برآمد

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) گلشنِ حدید کے قریب سومار گوٹھ میں 7 سالا بچے کی لاش برآمد ہونے کی اطلاعات۔ محنت کش گل صابر لغاری کے معصوم بچے 7 سالہ علی دوست صبح گھر سے قریبی دوکان سے دودھ لینے گیا تو تھوڑی ہی دیر بعد پڑوسیوں نے ورثاء کو اطلاع دی کہ ان کے بچے کی لاش برہنہ حالت میں پڑی ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد بچے کا والد گل صابر خان لغاری نے فوری طور پر اسٹیل ٹاؤن پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیئے جناح ہسپتال روانہ کردی۔ بچے کے والد نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ نامعلوم افراد نے بدفعلی کے بعد تشدد کر کے اس بچے کو قتل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شہداد کوٹ کے رہائشی ہیں۔ گذشتہ چار سال سے بے روزگاری کے باعث سومار گوٹھ میں اپنا ذاتی مکان لے کر رہائش اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ اس کو مقتول بیٹے سمیت چار بچے ہیں اور وہ مزدوری کر کے ان کا پیٹ پال رہے ہیں۔
اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیم پیپلز ہیومن رائیٹس آرگنائیزیشن کے رہنما احسان کھوسو نے متاثرہ خاندان کو قانونی معاونت کا یقین دلایا۔ واضع رہے کہ تیرہ ماہ قبل مذکورہ گوٹھ کے قریب ریلوے کالونی میں ملزمان نے دس برس کی بچی خدیجہ بتول سے جنسی زیادتی کے بعد پانی کے ٹینک میں ڈبو کر ہلاک کیا تھا جس کا مقدمہ تا حال چل رہا ہے کہ یہ دوسرا واقعہ رونما ہوا ہے۔ ورثاء نے وزیرِاعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، اے ڈی آئی جی کراچی، ایس ایس پی ملیر، ڈی جی رینجرز اور دیگر متعلقہ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں