ملیر، چیئرمین فشریز کی تعیناتی غیرقانونی ہے، سعید بلوچ

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) جنرل سکریٹری فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی ایمپلائیز یونین سعید بلوچ نے صحافوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی کا نیا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے جس کے مطابق سیکریٹری سطح کے تمام سرکاری افسران کو ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعد اب غیر قانونی چیئرمین کا سوسائٹی کے کسی بھی کام کے احکامات جاری کرنا اور کاغذات پر دستخط کرنا غیر قانونی عمل ہوگا اور اس کے تمام تر ذمہ دار سیکریٹری بورڈ اور مینجر ایف سی ایس ہوں گے ۔
انہوں نے کہا کہ 2 مئی 2017 کو حافظ عبدالبر نے چیرمین کی حیثیت سے چارج سنبھالا تو اس وقت خزانے میں 54 کروڑ روپے کیش موجود تھے۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اتنی کرپشن کی کہ یہ رقم 3 ماہ سے بھی کم وقت میں ہڑپ کردی گئی۔ ان کی کرپشن کی یہ حالت ہے کہ اپریل کی تنخواہیں 19 مئی کو بھی اس وقت ملیں جب میں نے 13 مئی کو ایک لیٹر تمام متعلقہ حکام کو لکھا کہ ملازمین کو اپریل کی تنخواہ ابھی تک نہیں ملی جبکہ مئی کی تنخواہ جو عید سے ایک ہفتہ پہلے ادا کرنے کے حکومتِ سندھ نے احکامات جاری کئے تھے وہ ابھی تک نہیں ملی اور حکومتِ سندھ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ڈائریکٹرز کی مدت 3 سال ہوتی ہے جو 27 اکتوبر 2019 کو پوری ہو گئی ہے۔ اب نئے نوٹیفیکشن تک وہ کام نہیں کر سکتے تھے پھر سندھ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کر سکی؟ انہوں نے زلام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صاحب ماضی میں ایان علی کو ایئرپورٹ سے ہوٹل اور پھر رات گئے جہاں انہیں محفلیں سجانی ہوتی تھیں وہاں چھوڑ کر آتے تھے پھر ہوٹل سے ایراپورٹ ایان علی کو ان کے خود ساختہ مینجر کی حیثیت سے چھوڑ کر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں فشریز دی گئی ورنہ ان کا فشریز سے کیا تعلق؟
انہوں نے کہا کہ مارچ اپریل اور مئی کا مہینہ ماہی گیری کا پیک سیزن ہوتا ہے لیکن اس پیک سیزن میں بھی تنخواہ انتہائی لیٹ ملی ہے جبکہ مئی کی تنخواہ ہی نہیں ملی ۔ جون میں وزیرَاعلیٰ نے ماہی گیروں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے پابندی اٹھا لی ہے ۔ جولائی میں ماہی گیری پر پابندی ہے ۔ اس مہینے میں تنخواہ کیسے ملے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں