کشمور، سرکاری ہسپتال بند، عورت کی کچرے کے ڈھیر پر زچگی

کشمور (نامہ نگار، غلام عباس دایو) تنگوانی میں واقع سرکاری ہسپتال میں سہولیات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہسپتال میں سہولت کی عدم فراہمی کے باعث عورت نے کچرے کے ڈھیر پر بچے کو جنم دیا ہے۔ عورت کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتال سے یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ سہولیات نہیں ہیں اور ہسپتال بند ہے جبکہ نجی ہسپتال میں چار ہزار روپے مانگے جارہے تھے جو غربت کے باعث نہیں ادا کرسکی۔
نواحی گاؤں رسالدار سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بتایا کہ نومولود بچے کی نگہداشت نہ ہونے کے باعث پیدا ہوتے کی ہلاکت ہوگئی ہے۔ بچے کی ہلاکت پر ماں کچرے کے ڈھیر پر ہی بیہوش ہو گئی جس کو کچھ ہی دیر بعد ورثاء کی جانب سے گدھا گاڑی پر گھر منتقل کیا گیا۔
خیال رہے کہ سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے سندھ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں بین الاقوامی طرزِ علاج کی سہولیات دے رکھی ہیں اور سندھ کی حکمراں جماعت کی جانب سے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن سندھ کے دیہی علاقوں میں ہسپتالوں کے اندر سہولیات کا فقدان معمول بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں