ملیر، ماہی گیروں پر نجی کمپنی کے اہلکاروں کا تشدد

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ابراہیم حیدری کے سمندر میں تاریخی جزیرے ڈنگی(بڈو) کے 16 ماہیگیر عزیز رمضان کی دو کشتیوں میں سوار ہو کر صبح سویرے مچھلی کا شکار کر رہے تھے کہ جزیرے ڈنگی پر تعمیر کیے گئے نجی ہوٹلز اور کلب کے اہلکاروں نے ماہیگیروں کو مچھلی کا شکار کرنے پر گرفتار کر کے یرغمال بنا دیا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعہ میں چار ماہیگیر آصف، علی رضا، عابد اور زبیر شدید زخمی ہو گئے جن کو ساتھی ماہیگیر ابراہیم حیدری لیکر پہنچے۔
اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں ماہیگیر عورتیں اور مرد جمع ہوگئے اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے اہلکاروں کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کی لیڈیز ونگ کی صدر فاطمہ مجید بھی احتجاج میں پہنچ گئیں۔ مظاہرین کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے 16 ماہیگیر صبح سویرے رمضان کی دو کشتیوں میں سوار ہوکر مچھلی کے شکار کو گئے تھے۔ شکار سے واپسی پر بلاجواز نجی ہوٹلز اور کلب کے اہلکاروں نے ماہیگیروں کو یرغمال بنا کر وحشیانہ تشدد کیاجس سے وہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
فاطمہ مجید کا کہنا تھا کہ اکثر کسی نہ کسی بہانے سے ماہیگیروں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ غیروں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم ماہیگیر بہت غریب اور محنت کش ہیں۔ اپنے بچوں کی کفالت کو پورا کرنے جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کے نجی کمپنی کے وحشی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ماہیگیروں کو سمندر میں مچھلی کا شکار کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں