ملیر، نجی کمپنی کا برطرف ملازمین کے احتجاج پر دھاوہ، شیلنگ، گرفتاریاں

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) نجی گارمنٹس فیکٹری انتظامیہ نے تین سال سے کام کرنے والے ایک سو سے زائد محنت کشوں کو ملازمت سے فارغ کردیا۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز معمول کے مطابق مختلف علاقوں سے ڈیوٹی پر پہنچےع والے ملازمین کو سیکیورٹی عملے نے مین گیٹ پر روک کر کارڈ چیک کرکے واشنگ سیکشن کے ملازمین کو فیکٹری کے اندر جانے روک لیا اور کہا کہ ان کو فارغ کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی عملے کے برتاؤ پر ملازمین مشتعل ہوگئے۔
اس موقع پر ایک سو سے زائد ملازمین نے گیٹ پر احتجاج شروع کردیا اور انتظامیہ و سیکورٹی عملے کے خلاف شدید نعرے بازے کی۔ انتظامیہ نے پولیس کو طلب کرلیا۔ فیکٹری کے سیکیورٹی عملے اور شاہ لطیف پولیس نے ملازمین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چاج کرکے فائرنگ کردی جس سے تین ملازمین حکیم بلیدی، بخت علی بلیدی اور شفیق بلیدی شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے شفیق بلیدی کو تشویسناک حالت میں جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ دوست محمد، شعیب، جاوید، راشد بخت علی، شاہد علی اور علی محمد سمیت دس ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا۔
دوسری جانب سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور سندھی مزدور تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری زبیر نوناری، ستار گوپانگ، سنتوش کمار اور ریاض کھیمٹیو کی جانب سے مزدوروں کو بے دخل اور تشدد کرنے کے خلاف شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واقع کی مذمت کی گئی ہے۔ واقعہ کے خلاف سندھ یونائیٹڈ پارٹی ضلع ملیر کی جانب سے ورثاء کے ہمراہ عبداللہ گوٹھ سے قومی شاہراہ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں بینز اور پلے کارڈ تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سندھ یونائیٹڈ پارٹی ضلع ملیر فیض ہیسبانی، اصغر کھوسو اور زخمیوں کے ورثاء کے رشتے دار عرفان بلیدی، اصغر کھوسو و دیگر نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے نہ تو ادائیگی ہو سکی ہے اور نہ ہی نوکری کی بحالی۔ لاک ڈاؤن کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج پر پولیس اور کمپنی انتظامیہ نے جان بوجھ کر لاٹھی چارک کروائی جس کی ذمہ دار انتظامیہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام محنت کش کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں جن کو ہر آئے روز مالکان کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ محنت کشوں کے ورثاء نے وزیرِعلی سندھ، آئی جی سندھ، اے آئی جی کراچی سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ شاہ لطیف پولیس کی کارروائی کا نوٹس لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور تمام برطرف محنت کشوں کو بحال کیا جائے بصورت دیگر ہم راستوں پر نکل آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں