ملیر، انسدادِ تجاوزات اہلکار کامزدور کے گھر پر قبضہ

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) میمن گوٹھ میں محنت کش عبدالغنی باریجو نے عوامی پریس کلب ملیر پہنچ کر صحافیوں کو اپنے پلاٹ اور گھر کے دستاویزات دکھا کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر اس کا کہنا تھا کہ میمن گوٹھ میں واقع قلندر بستی میں بلڈر ماسٹر قمرالدين سے 2019 میں 100 گز کا پلاٹ لے کر گھر تعمیر کروایا تھا جس پر اس کی جنم پونجی خرچ ہو گئی۔ محنت کش نے انسدادِ تجاوزات پولیس اہلکار آصف انڑ پر الزام لگایا کہ 8 ماہ قبل اس نے میرے گھر پر قبضہ کیا جبکہ ملیر کورٹ کے سامنے حادثہ ہو گیا اور میں ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ علاج کے بعد جب مجھے گھر پر قبضے کا پتہ چلا تو میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ میں فورن گھر پر قبضہ خالی کرانے قلندر بستی پہنچا تو اہلکار آصف انڑ چار مسلح افراد کے ساتھ وہاں موجود تھا جس نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور ہتھیاروں کے زور پر مجھے وہاں سے بھگا دیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ میرے گھر پر قبضے کے بعد مذکورہ اہلکار وہاں منشیات سمیت دیگر غیر قانونی سرگرمیاں کر رہا ہے جس کے نتیجے میں میمن گوٹھ پولیس نے چھاپہ مار کر منشیات اپنی تحویل میں لیں ہیں اور اہلکار سمیت چار ملزمان پر مقدمہ درج کیا جہاں سے اہلکار آصف انڑ فرار ہو گیا۔ انہوں نے ایس ایس پی انکروچمنٹ ملیر، اے ڈی آئی جی کراچی، ڈی جی نیب اور دیگر بالا افسران کو تحریری درخواست بھیج کر مطالبہ کیا کہ گھر پر قابض آصف انڑ کے خلاف کارروائی عمل میں لاکر میرا گھر خالی کرایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں