ملیر، پولیس کی غیرقانونی گھروں کی تلاشی اور گرفتاریوں کا انکشاف

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ابراہیم حیدری میں پولیس کی جانب سے گھروں میں غیرقانونی تلاشی اور گرفتاریوں کا انکشاف ہوا ہے۔ محمدانی محلے کے رہائشی اسماعیل محمد نے کہا ہے کہ سترہ سے زائد پولیس اہلکاروں نے نصف شب ان کے گھر میں داخل ہوکر تشدد کرکے اور توڑ پھوڑ کی۔ کچھ ہاتھ نہ آیا تو گھر میں موجود جمع پونجی ساٹھ ہزار لیکر اسماعيل کو تھانے میں بند کردیا۔ اسماعيل کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس سے مزید ساٹھ ہزار رشوت لے کر رہا کیا ہے جبکہ پوليس نے پڑوس کے گھر میں رات گئے زبردستی داخل ہوکر گھر کی تلاشی لی اور چیزیں بکھیر کر نیند میں سوئی دو بہنوں امینہ اور حلیمہ دختر اسماعیل کو گرفتار کر کے لے گئے جن میں سے حلیمہ ولد اسماعیل کو کچھ دیر بعد رہا کر دیا جبکہ غیرشادی شدہ نوجوان لڑکی امینہ ولد اسماعیل کو دوسرے روز عشاء تک لاک اپ میں رکھا گیا۔
اطلاع ملتے ہی محلے کے لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے ظالمانہ رویے اور بیگناہ عورتوں کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ایس ایچ او ابراہیم حیدری اور دیگر ملوث اہلکاروں کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ شدید عوامی ردِعمل کے بعد پولیس نے امینہ ولد اسماعیل کو رہا کر دیا۔ مظاہرین اور فشرفوک کی رہنما فاطمہ کا کہنا تھا کہ ابراہیم حیدری میں منشیات کھلے عام بک رہی ہے جس کے خلاف پولیس کی جانب سے اتنا سخت ایکشن نہیں جا لیا جارہا لیکن بے گناہ علاقہ مکینوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم پولیس کے اس رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کی گرفت کمزور ہوگئی ہے جس کے باعث مایوس ہو کر غریب اور معصوم لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ فاطمہ مجید کا مزید کہنا تھا کہ نشے میں دھت اہلکاروں نے عورتوں پر تشدد کیا اور بالوں سے گھسیٹ کر ان کی بے حرمتی کی اور تھانے میں لاکپ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے ایس ایچ او ابراہیم حیدری سمیت ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں