لاڑکانہ: نمرتا چندانی کے گلے بندھے دوپٹے سے کوئی ڈی این اے حاصل نہیں کیے جاسکے:پنجاب فورنسک سائینس ایجنسی

لاڑکانہ (رپورٹ: نور احمد عباسی) پنجاب فارنسک ایجنسی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دوپٹے سے کوئی ڈی این اے حاصل نہیں کیےجا سکے۔ پنجاب فورنسک سائینس ایجنسی کی جانب سے نمرتا کے گلے میں مبینہ طور پر پھندے کے طور پر استعمال ہونے والے دوپٹے کی ڈی این اے رپورٹ لاڑکانہ پولیس کو بھجوائی گئی، رپورٹ کے مطابق دوپٹے سے کسی قسم کے اسکن ٹشوز، یا خون کے اسٹین نہیں ملے جس وجہ سے ڈی این اے حاصل نہیں کیے جاسکے، دوپٹا 25 ستمبر کو واقع کے 9 روز بعد ڈی این اے کےلیے بھجوایا گیا جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کپڑے پر واقع کے 72 گھنٹوں بعد تک اسکن ٹشوز سے ڈی این لیا جاسکتا تھا تاخیر کے باعث ڈی این اے ملنا ناممکن ہوجاتا ہے اور پوسٹ مارٹم کے دوران نمرتا کے ناخن بھی ڈی این اے کے لیے نہیں بھیجے گئے جو کہ انتہائی ضروری تھا جس سے خود کشی اور قتل کا معمہ حل ہوسکتا تھا ۔ دوسری جانب ڈی این اے رپورٹ جوڈیشل انکوائری کو پیش کی جاچکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئیندہ 2 روز کے دوران جوڈیشل انکوائری رپورٹ وزارت داخلہ سندھ کو بھجوا دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں