خیرپور: جامعہِ شاہ لطیف سے طالبہ کو اغواء کرنے کی کوشش ناکام، ملزمان فرار

خیرپور (رپورٹ، فلک شیر/علی کھوسو) جامعہِ شاہ لطیف میں زیرِ تعلیم پبلک ایڈمنسٹریشن کی طالبہ کشف آرائیں کو اغواء کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق جامعہ کی نمبر پلیٹ والی سفید کرولا کار میں طالبہ کشف آرائیں کو اغواء کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس کو طالباء کی مزاحمت اور چیخ و پکار کے بعد مضافات میں موجود لوگوں کی جانب سے ناکام بنادیا گیا۔ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئےجبکہ طالبہ کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔

واردات میں استعمال ہونے والی کار نمبر BPM-074 جس کے ہرے نمبر پلیٹ پر نمبر کے ہمراہ “شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور” بھی تحریر ہے، جامعہ کے گھوٹکی کیمپس میں تعینات افسر سید مسعود رضا شاہ کی بتائی جا رہی ہے جو اس وقت ان کے بیٹے کے زیرِ استعمال تھی تاہم اس کے ہمراہ وزیر علی وسان نامی ایک اور شخص بھی واردات میں ملوث بتایا جا رہا ہے۔

جامعہ کے افسر برائے تعلقات ِ عامہ ڈاکٹر تاج محمد لاشاری نے واقعہ کی اغواء کی کوشش کے اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔ یونائیٹڈ ٹی وی کی جانب سے رابطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ملنے والی تمام تر اطلاعات افواہ پر مبنی ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے تاہم گاڑی کے حوالہ سے میڈیا کو ملنے والی اطلاعات کو انہوں نے درست قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسعود رضا شاہ کی گاڑی میں ان کا بیٹا اپنی کلاس فیلو کے ہمراہ جا رہا تھا تو راستے میں طلباء کی آپس میں نوک جھوک کے نتیجہ میں واقعہ پیش آیا ہے جس کے باعث طالبہ بیہوش ہو گئی جس کو بعدازاں طبی امداد کے بعد تھانہ پہنچا کر والدین کے حوالے کیا گیا ہے۔ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ گاڑی کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور گاڑی مسعود رضا شاہ نامی افسر کی ذاتی گاڑی ہے۔
یونائیٹڈ ٹی وی کی جانب سے افسر کی ذاتی گاڑی پر ہرے رنگ کی نمبر پلیٹ کے استعمال پر ادارے کی جانب سے کارروائی کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری ادارے کی نہیں بلکہ ٹریفک پولیس پر عائد ہوتی ہے اس لئے اس واقعہ کا جامعہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں