ملیر، قبضہ گیروں کے تشدد میں ایک شخص ہلاک، ورثاء کا ایم ڈی اے افسر کی گرفتاری کا مطالبہ

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی میں قبضے کے غرض سے مسلح افراد کے حملے میں زخمی معذور مالکِ مکان قربان سولنگی فوت، ورثہ کی جانب کا شاہ لطیف تھانے کے سامنے لاش رکھ کر احتجاج کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ملیر میں قومی شاہراہ کے نزدیک شاہ لطیف کی حدود میں ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے رہائشی اسکیم شاہ لطیف میں پلاٹ حاصل کر کے گذشتہ 4 سالوں سے رہائش اختیار کرنے والے قربان سولنگی پر ایم ڈی اے افسر اسد بلوچ کے ایمہ پر ملزم راحت علی کی سرپرستی میں مسلح افراد نے ان کی ہوٹل پر حملہ کر کے معذور قربان سولنگی پر شدید تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تشدد کے نتیجہ میں دماغ کی نبض پھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

ورثاء نے لاش لیکر تھانہ شاہ لطیف کے سامنے احتجاج کیا جن کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے تک لاش نہیں اٹھائی جائے گی جس کے بعد ایس ایچ او نے ملزم راحت علی اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ درج کیا۔ اس موقع پر ہلاک شخص کی اہلیہ عابدہ اور بیٹے عرفان سولنگی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایم ڈی اے کے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد گھر حاصل کر کے رہائش اختیار کی تھی۔ ایم ڈی اے کے افسر اسد بلوچ نے بااثر قبضہ گیر راحت علی سے ملکر دباؤ ڈالا کہ وہ گھر کسی اور کا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قربان سولنگی پہلے سے ہی فالج کی وجہ سے معذور تھا جو گھر کے قریب ہوٹل چلا کر بچوں کی کفالت پوری کرتا تھا۔ گذشتہ روز ایم ڈی اے افسر اسد بلوچ کے کہنے پر بااثر ملزم راحت علی مسلح افراد کے ساتھ ہوٹل پہنچا اور ان پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے وہ خون آلودہ ہوگیا اور ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم ڈی اے افسر اسد بلوچ، راحت علی اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے ہلاک ملزم کے خون سے انصاف کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں