گھوٹکی، کچہ کے علاقے سے خاتون نرس اغواء، لاکھوں روپے تاوان طلب، پولیس لاتعلق

گھوٹکی (نامہ نگار، جعفر شیخ) نجی ہسپتال کی نرس ڈاکٹر بن کر علاج کے لیے کچے میں گئی تو ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا۔ ڈاکوؤں کی جانب سے ورثاء کو موصول ہونے والی کال کی رکارڈنگ یونائیٹڈ ٹی وی کو مل گئی۔ کال رکارڈنگ میں بیٹا ڈاکوؤں کو غريب اسٹاف نرس ہونے کا یقین دلاتا رہا جبکہ ڈاکوؤں کی جانب سے مغوی خاتون کے ورثاء کو چھ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ڈاکوؤں نے مزید انکشاف کیا کہ پولیس کی عزت کا سوال ہے، ایس ایس پی بیس لاکھ بھی ادا کرے گا۔ کسی علاقے کے وڈیرے سے رابطہ کریں اور جلد از جلد اپنی والدہ کو بازیاب کرائیں۔ ورثاء کی جانب سے نرس کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
دوسری جانب ضلع بھر سے چند ماہ میں خاتون سمیت 6 افراد اغواء ہو چکے ہیں جن میں گھوٹکی کی حدود سے فضل الرحمن، الطاف مہر ،امان الله اور خاتون پٹھانی شامل ہیں جبکہ ڈہرکی تھانہ کی حدود سے شاہنواز بھٹو اور محمد علی کئی ماہ سے ڈاکوؤں کی قید میں ہیں۔ پولیس ترجمان نے معاملہ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون کشمور کے کچے سے اغواء ہوئی ہے جو خود ڈاکٹر بن کر علاج کرنے لیے گئی ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں