دادو، محکمہِ صحت کی لاپرواہی، عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں

دادو (نامہ نگار، فیاض جعفری) مسیحاؤں کی بے حسی نے ایک اور جان لے لی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹرز و دیگر عملہ غائب۔ امراضِ قلب میں مبتلا خاتون تڑپ تڑپ کر دم توڑ گئیں۔ جاں بحق خاتون کے ورثاء نے بروقت علاج میسر نہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
واقعہ پر موقف لینے کے لئے ایڈیشنل سول سرجن سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مریضہ کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا، لیڈی ڈاکٹر علاج کرنے میں مصروف تھی کہ وہ دم توڑ گئی۔ ان کے مطابق لیڈی ڈاکٹر نے پوری کوشش کی لیکن مریضہ جانبر نہ ہوسکی۔
دوسری جانب جوہی کی مضافات ڈرگھ بالا کی سرکاری ہسپتال میں صحت کی عدم سہولیات کی اطلاعات ملی ہیں جس کے خلاف ڈرگھ بالا میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ قصبے کے تمام کاروباری مراکز مکمل طور بند رہے۔ اس موقع پر تاجران کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال میں کھڑی ایمبولینس سالوں سے ناکارہ ہے، ہسپتالوں میں نہ تو ڈاکٹرز موجود ہیں اور نہ ہی صحت کی سہولیات ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ایچ او دادو کو ہٹایا جائے اور ہسپتال کو فعال بنا کر سہولت مہیا کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں