ملیر، کرونا ایمرجنسی کے تحت کاروباری مراکز بند

ملیر )نامہ نگار، منظورسولنگی) سندھ حکومت کی جانب سے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ملیر کے مختلف علاقے پپری، گگھر، گلشنِ حديد، میمن گوٹھ، کاٹھوڑ، سپر ہائی وے، دمبہ گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں ہوٹلوں سمیت کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں۔ ہر طرف کرفیو جیسا ماحول ہے۔ علاقے سنسان ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے محنت کشوں اور دہاڑی مزدور پر گہرا اثر پڑا ہے۔ 15 دن کے لیے کاروبار بند ہونے پر مزدور پریشانی سے دو چار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا گزارہ پہلے سے ہی نہیں ہو پارہا تھا لیکن اب تو لاک ڈاؤن کا اعلان کر کے حکومت نے ہمارے بچوں کو بھوک و افلاس میں مبتلا کر دیا ہے۔ دوسری جانب صبح سویرے پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ علاقوں میں پہنچ کر سندھ حکومت کے احکامات کے پیش نظر کارروائی کی۔ ملیر کی تاریخ رہی ہے کہ میمن گوٹھ کا کاروباری مرکز کبھی بند نہیں رہا، وہ بھی کرونا وائرس کے خوف سے بند کیا گیا ہے جبکہ ساحلِ سمندر کے راستے بند کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کراچی فش ہاربر انتظامیہ نے پمفلٹ تیار کرا کر کورنگی فش ہاربر پر بھیج دیے ہیں جو کل تقسیم کر کے جیٹیاں بند کی جائیں گیں۔ اس سلسلے میں عام اور غریب ماہیگیر بیروزگاری کے باعث پریشانی کے عالم میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں