ملیر، بیوی شوہر کی غیرموجودگی میں گھر کا صفایہ کرکے فرار

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) گگھر کے قریب واقع جنگی خان گوٹھ میں مزدور بخشل اجن نے ملیر کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ میری پہلی گھر والی کی وفات کے بعد میں نے خان محمد تنیو اور سلمیٰ بنگالن نامی عورت کی معرفت ایک لاکھ 75 ہزار کے عیوض کورنگی کے مکین حافظ حسین احمد بنگالی کی بیٹی طلاق یافتہ پانچ بچوں کی ماں مریم سے نکاح کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے پہلے دن سے میری اہلیہ مریم نے مجھ پر زور ڈالا کہ گگھر والا گھر بیچ کر میرے میکے کے پڑوس میں چل کر رہیں۔ میں نے اپنی اہلیہ کے اسرار پر گگھر میں موجود گھر کو بیچا جس کی رقم ساڑھے پانچ لاکھ روپے نقدی اہلیہ کو رکھنے کے لیے دیے اور اسے کہا کے باقی رقم ملنے پر کورنگی شفٹ ہو جائیں گے۔ گذشتہ روز جب میں مزدوری سے گھر واپس آیا تو گھر میں کوئی بھی نہیں تھ، میں نے اپنی گھر والی کا نمبر ملایا جو بند جارہا تھا جس کے بعد پڑوس سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ دوپہر کے اوقات میں سوزوکی سوار دو نامعلوم افراد گھر کا سامان گاڑی میں ڈال کر میری اہلیہ اور بچوں کو لیکر چلے گئے ہیں۔ جب میں نے گھرکی تلاشی لی تو پتہ چلا کہ گھر میں رکھے زیورات اور سونے کی انگوٹھیاں جن کی مالیت ایک لاکھ 27 ہزار تھی، گھر فروخت میں ملے ساڑھے 5 لاکھ اور 70 ہزار غائب تھے۔
دوسرے دن جب میں نے اپنی بیوی سے رابطہ کیا تو اس نے مجھے پہچاننے سے انکار کردیا اور کہا کہ دوبارہ فون مت کرنا ورنہ خراب نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ کے رشتہ دار عرفان اور آصف فون پر مجھے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مجھے جان کا خطرہ ہے انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ لوگوں پر مقدمہ درج کر کے لوٹی گئی نقدی رقم واپس کرواکے انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں