ملیر، صحافی کو دھمکیاں، پریس کلب عہدیداران کا احتجاج

ملير (نامہ نگار، منظورسولنگی) دو روز قبل رزاق آبادمیں واقع سیلاب متاثرین کیمپ میں دو گروپوں میں تصادم کی کوریج کرنے والے صحافی شہزادو مستوئی پر حملہ کر کے زخمی کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ روز پولیس کی جانب سے واقعے میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے بعد بااثر کی جانب سے صحافی کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیوں کے خلاف عوامی پریس کلب ملیر کے صحافیوں صدر غلام علی گوندر، جنرل سیکرٹری منظور سولنگی، نائب صدر سکندر جوکھیو اور دیگر نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بااثر گروہ کی جانب سے ذاتیات کی آڑ میں صحافیوں کو دھمکیاں دیکر قتل کی سازشیں بند کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک صحافی تو سماج میں اپنے قلم کے ذریعے عوام کو حق دلانے کی کوشش کرتا ہے۔ صحافیوں کا برادریوں اور قبائل کے مابین ذاتی جھگڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن برادریوں کے بااثر وڈیرے اپنے آپ کو چمکانے کے لیے ذاتی رنجشوں کی بدولت صحافیوں پر حملہ کراتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافی شہزادو مستوئی کو دھمکیاں دینے والے ملزمان عبدالغفار مگسی، دلبر مگسی، ذاکر ماچھی، علی نواز ماچھی کو فوری طور پر گرفتار کر کے صحافی کو تحفظ فراہم کیا جائے بصورت دیگر سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں