کوٹڈیجی، لیاری میں یونین کونسل چیئرمین کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی

کراچی (سوشل میڈیا ڈیسک) سندھ میں کرونا وائرس کے دوران عوامی نمائندے اپنے حلقہِ انتخاب سے غائب ہیں۔ عوام کو بے یارو مددگار چھوڑا گیا ہے جس کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ تحصیل کوٹڈیجی میں واقع یونین کونسل لیاری کی عوام منتخب چیئرمین کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ اس موقع پر لیاری، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے پیپلزپارٹی کا موع ط قلعہ رہا ہے، وہاں کی سڑکین پانی کے تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں وبا کے پیشِ نظر صفائی کی مہم جاری ہیں لیکن یونین کونسل لیاری سے منتخب چیئرمین عبدالرشید اجن علاقہ میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ واٹس ایپ پر موجود سماجی گروپ میں گردش کرنے والی وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یونین کونسل لیاری میں لوگ منتخب چیئرمین عبدالرشید اجن کے خلاف شدید احتجاج کررہے ہیں اور اپنے گاؤں میں موجود راستوں پر گندے پانی کے تالاب بھی دکھا رہے ہیں۔

وڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک پر چلنے کے لئے جگہ بھی نہیں ہے ۔ اس موقع پر عوام کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ ہم آج تک پیپلزپارٹی کے جان نثار رہے ہی لیکن اپنی ہی پارٹی کا منتخب چیئرمین پوری یونین کونسل کے لئے دردِ سر بن کر رہ گیا ہے کیونکہ وبا کے دوران ہم اپنے گھروں میں صفائی یقینی بنا سکتے ہیں لیکن علاقہ میں گندگی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے خطرات لاحق ہیں۔

یونائیٹڈ ٹی وی کی جانب سے یونین کونسل لیاری کے چیئرمین عبدالرشید اجن سے موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ آٹھ روز قبل بارش کے نتیجے میں سڑکوں پر پانی جمع ہوا تھا جس کے بعد احتجاج کیا گیا تھا لیکن بعد میں صفائی کروا دی گئی تھی۔ یونائیٹڈ ٹی وی کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد کی تقسیم کے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یونین کونسل لیاری میں 600 راشن کے تھیلے تقسیم کیے ہیں جن میں سے150 تھیلے ایم این اے کی طرف سے دیے گئے تھے جبکہ 450 تھیلے انہوں نے اپنی طرف سے یونین کونسل کے مستحق عوام تک پہنچائے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں