ملیر، اے ایس آئی کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ملیر میں سماجی مسائل پر متحرک رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے خلاف پولیس اور بااثر افراد کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا ہے۔ گذشتہ روز میمن گوٹھ پولیس نے درسنہ چھنہ سے ایک منشیات فروش کو گرفتار کیا جس کی صحافی قادر درس نے کوریج کی۔ تھانہ میمن گوٹھ کے اے ایس آئی شہباز نے اپنے دیگر اہلکاروں سے ساتھ مل کر صحافی سے بدتمیزی کی اور منشیات فروش کے ساتھ پولیس موبائل میں بٹھا کر تھانے لے آئے تاہم صحافیوں کے احتجاج کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔
گذشتہ روز عوامی پریس کلب ملیر کی جانب سے صحافی کی بلا جواز اور ہتک آمیز گرفتاری کے خلاف میمن گوٹھ کے مین چوک سے پریس کلب تک صدر غلام علی گوندر، جنرل سیکریٹری منظور سولنگی، سماجی رہنما فقیر امن جوکھیو، ایس یو پی رہنما فیض سندھی، سماجی رہنما ذلفی جوکھیو کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ شرکاء کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر تھے۔ مظاہرین میمن گوٹھ پولیس کے اے ایس آئی شہباز اور دیگر اہلکاروں کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔
اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو صحافیوں سے تعاون کرنا چاہیے تاکہ وہ سماجی برائیوں کو منظرِ عام پر لا کر پولیس کو اپنے فرائض یاد دلا سکے لیکن افسوس ہے کہ پولیس صحافیوں سے مجرمانہ رویہ اختیار کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میمن گوٹھ کا اے ایس آئی شہباز عرصہِ دراز سے منشیات فروشوں کے ساتھ مل کر غیر قانونی کام کر رہا ہے جو منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے پیسے لیکر چھوڑ دیتا ہے۔
اس مرتبہ جب صحافی نے منشیات فروش کی نمائشی گرفتاری کی کوریج کی تو مذکورہ اے ایس آئی راز فاش ہونے پر مشتعل ہوگیا اور صحافی سے بدتمیزی کرتے ہوئے اسے تھانے تک لے آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اے ایس آئی شہباز کو فوری طو ر پر تھانے سے ہٹا کر معطل کیا جائے بصور ت دیگر صحافیوں کا احتجاج جار ی رہیگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں