ملیر، نجی کلینکس پر چھاپہ، سیل کردی گئیں

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) گذشتہ روز گلشنِ حدید کے ماہرِ امراضِ جلد کے کرونا وائرس میں مبتلہ ہونے اور وفات پانے کے بعد محکمہِ صحت نے ضلع بھر کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن انتظامیہ اپنے احکامات پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ مختلف علاقوں کے عطائی ڈاکٹروں نے احکامات کو نظر اندا ز کردیا ہے۔
اس سلسلے میں گذشتہ روز گگھر کی المعصوم کلینک میں دورانِ علاج مبینہ طور پر چار سالہ معصوم بچہ محمد صدیق ولد محمد بخش گبول غلط انجیکشن لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ ورثاء نے شدید احتجاج کیا تو ڈاکٹر کلینک کو تالا لگا کر چلا گیا۔ اطلاع پر محکمہِ صحت ملیر کے افسر ٹی ایچ او بن قاسم ڈاکٹر محمد اکرم شیخ، مختیار کار بن قاسم نسیم تنیو پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ گگھر پہنچے اور مذکور ہ کلینک سمیت دس سے زائد کلینکس کو سیل کردیا۔
بچے کے ورثاء محمد بخش گبول ، چچہ غلام مرتضی گبول و دیگر کا کہنا تھا کہ ہمارا معصوم بچہ بیماری کے باعث ڈاکٹر شاہنواز کے پاس علاج کی غرض سے لایا گیا تھا جسے ڈاکٹر کی جانب سے غلط انجیکشن لگایا گیا اور وہ فوت ہوگیا۔ اگر عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو مزید انسانی جانوں کو بھی خطرہ ہے جبکہ ڈاکٹر نے غلط انجیکشن لگانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چار گھنٹے قبل بچے کا علاج کیا لیکن وہ زیادہ بیمار ہونے کے باعث فوت ہوا ہے۔ محکمہِ صحت کے ٹی ایچ او ڈاکٹر اکرم شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری احکامات سے انحرافی پر کسی بھی کھلی ہوئی کلینک اور ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں