ملیر، تبادلے پر پولیس اہلکاروں کا اظہارِ تشویش

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ضلع ملیر کے پانچ تھانوں بن قاسم، شاہ لطیف، سپر ہائی وے، گڈاپ، سہراب گوٹھ کے 168 اہلکاروں کا لاک ڈاؤن کے دوران دیگر اضلاع میں تبادلہ کر دیا گیا جن میں عمر رسیدہ اور معذور اہلکار بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اے ڈی آئی جی غلام نبی میمن نے اہلکاروں کو قریبی تھانوں میں تعینات کرنے کا حکم جاری کر دیا لیکن ڈی آئی جی ایسٹ نے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے اچانک 100 سے زائد اہلکاروں کا دیگر اضلاع میں تبادلے کا حکم جاری کر دیا ہے جن کے آرڈر تھانے پر بہیجے گئے ہیں جس سے پولیس اہلکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث سیکڑےوں اہلکاروں کو ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
لاک ڈاؤن کے باعث پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کرونا وائرس کے باعث اہلکار سخت نوکری کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ایک ضلع سے دوسرے ضلع پہنچنے میں 2 گھنٹے سے زائد کا وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی اپنے حکم پر نظر ثانی فرمائیں جبکہ اے ڈی آئی جی کراچی کا حکم ہے کہ پولیس اہلکاروں سے قریبی تھانوں پر ڈیوٹی لی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2 سے زائد گھنٹوں کے سفر اور 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد وہ کرونا جیسی وبا سے جنگ کیسے لڑ سکتے ہیں؟ اس حالت میں تو وہ خود بھی کرونا کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے آئی جی سندھ، ایڈشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ایسٹ سے اپیل کی ہے کہ انہیں قریبی تھانوں میں تعینات کر کے ذہنی اذیت سے نکالا جائے تاکہ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں