ملیر کے صحافی کے خلاف ڈہرکی میں مقدمہ، صحافیوں کا احتجاج

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) عوامی پریس کلب ملیر کے عہدیدار و نمائندہ برائے مقامی روزنامہ شہزادو مستوئی کے خلاف مخالفین نے ضلع گھوٹکی کے تھانہ ڈہرکی میں فائرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا ہے۔ اطلاع ملنے پر پریس کلب کے صدر غلام علی گوندر، جنرل سیکریٹری منظور علی سولنگی و دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر فدا حسین مستوئی سے تحریری شکایت کے بعد رابطہ کیا اور انہیں مقدمے سے متعلق آگاہی دی۔ انہوں نے ایس ایس پی گھوٹکی فرخ لنجار کو تفتیشی افسر مقرر کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے خلاف ملیر میں صحافیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر صحافی شہزادو مستوئی کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ 15سال سے ملیر میں صحافتی پیشے سے وابستہ ہے۔ وہ کبھی ڈہرکی گیا ہی نہیں تاہم دوہفتہ قبل رزاق آباد میں دو گروپوں میں ہونے والے تصادم کی رپورٹنگ کے دوران ان پر حملہ کرکے تشدد کیا گیا جس کا مقدمہ تھانہ شاہ لطیف میں درج کروایا گیا جس کے ردِعمل میں حملہ آوروں کی جانب سے انتقامی کارروائی کے طور پر ڈہرکی پولیس کو بھاری رشوت دیکر میرے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروایا ہے۔ پریس کلب کے عہدیداروں نے ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے دائر جھوٹے مقدمے کو فوری طور پر ختم کرکے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں