لاک ڈاؤن، ملیر کا خاندان پشاور جاتے ہوئے گرفتار

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) قائد آباد کا رہائشی خاندان لاک ڈاؤن کے باعث بے روزگار اور شدید بھوک و افلاس میں مبتلا ہو گیا۔ گذشتہ روز 33 افراد پر مشتمل خاندان کوسٹر کے ذریعے پشاور جاتے ہوئے سپر ہائی سے کے قریب رات کو دو بجے تھانہ میمن گوٹھ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ پولیس نے کوسٹر چالان کرکے 33 افراد جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے، ان کو تھانہ لا کر بند کردیا۔
اطلاع ملنے پر ہاشم خاصخیلی گوٹھ کے سماجی کارکنان نے تھانہ پہنچ کر ساری رات بھوک میں گذارنے والے پختون خاندان کو ناشتہ کروایا اور اپنے گوٹھ کے کمیونٹی سینٹر لے آئے تاہم شام گئے پولیس نے گرفتار پختون خاندان کے 33 افراد کو رہا کردیا۔ اس موقع پر خاندان کے بزرگ شیر محمد نے صحافیوں کو بتایا کہ قائد آباد میں مزدوری کرتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث بے روزگار ہوگئے تو کرایہ دار نے گھر کی چابی لے کر بے دخل کردیا۔ چندہ کرکے کوسٹر پر پشاور جارہے تھے کہ پولیس نے رشوت نہ دینے پر پکڑ لیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی ملک میں اپنے صوبے اور گھروں کو نہیں جاسکتے اور نہ ہی حکومت لاک ڈاؤن میں کوئی مدد کر رہی ہے الٹا بے عزت کرکے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں