ملیر، اسٹیل ٹاؤن کی رہائشی کالونی منشیات فروشوں کی آماجگاہ بن گئی

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) اسٹیل ملز کے قیام کے وقت ملازمین کی رہائش کیلئے تعمیر کی گئی اسٹیل ٹاؤن شپ موجودہ حالات میں اپنے ماضی کی شاندار روایات پرفضاء ماحول کو ختم کرکے اس وقت جرائم کا گڑھ اور منشیات فروشی کے اڈے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ملازمین کی مسلسل شکایات کے بعد گذشتہ روز سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر گھر میں غیر قانونی طور پر موجود اظہر علی، سمیع اللہ اور عمر طفیل نامی تین افراد کو منشیات فروشی کے الزام میں پکڑ لیا۔
دوسری جانب ایک اور گھر میں اچانک چھاپہ مار کر گھر میں غیر قانونی رہائش اختیار کرنے والے تھانہ سکھن کے اہلکار ارشد کو ایک عورت سمیت پکڑ لیا اور گھر خالی کروالیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس وقت اسٹیل ٹاؤن میں 150سے زائد ایسے گھر ہیں جن پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے جہاں جرائم پیشہ افراد اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ایسے ملازمین بھی ہیں جنہوں نے تنخواہ کی عدم دستیابی کے باعث اپنے گھر غیر قانونی طور پر کرایوں پر دے رکھے ہیں۔ ماضی کا خوبصورت علاقہ اس وقت غیر محفوظ اور جرائم کا گڑھ بن کر رہ گیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے محکمہِ پولیس، اسٹیل سیکیورٹی اور رینجرز حکام سے اپیل کی ہے کہ اسٹیل ٹاؤن میں غیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں