ملیر، راشن سے محروم مستحقین کا احتجاج

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) قائدآباد سے گگھر ولیج تک نیشنل ہائی وے سے متصل بڑی تعداد میں مختلف آبادیوں میں مقیم محنت کشوں کو تاحال راشن کی فراہمی نہیں ہوسکی جس کے باعث ان علاقوں کے مکین فاقہ کشی سے دوچار ہیں۔ در محمد خروس گوٹھ کے سینکٹروں مکینوں نے راشن تقسیم میں اقرباپروری اور مستحق افراد کو راشن نہ دینے کے خلاف گھروں سے نکل کر در محمد شیخ، سکینہ بلوچ، مائی خدیجہ کھوسو، سجن ابڑو، مٹھل سومرو کی قیاد ت میں گوٹھ سے نیشنل ہائی وے تک پیدل مارچ کیا۔
مظاہرے میں عورتوں اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے ڈپنی کمشنر ملیر، راشن کمیٹی، پیپلز پارٹی کے عہدیدارن اور منتخب نمائندوں کے خلاف فلک شگاف نعرے بازی کرتے ہوئے راشن فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مکینوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کے خوف سے وہ محنت مزدوری چھوڑ کر گھروں میں محدود ہوگئے ہیں۔ حکومت ِ سندھ کی جانب سے راشن کی فراہمی کے اعلانات تو سنتے رہے ہیں لیکن راشن تاحال فراہم نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث ہمارے معصوم بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم شروع سے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے آرہے ہیں، ہمیں جیالا کہہ کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ مایوس اور حیرت زدہ ہیں کہ دیگر ممالک و صوبوں سے آنے والے لوگوں کو تو راشن تقسیم کیا جارہا ہے لیکن مقامی لوگ اس مدد سے محروم ہیں۔ انہوں نے حکومت ِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر راشن فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں