ملیر، ماہی گیر سمندر میں ڈوب کر جاں بحق

ملیر سے رپورٹ (نامہ نگار، منظورسولنگی) کرونا وائرس کے باعث نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ماہی گیروں کو جیسے ہی سمندر میں ماہی گیری کیلئے اجازت دی گئی۔ کراچی کے ساحلی علاقوں سے بڑی تعداد میں ماہی گیر کشتیاں لیکر روزگار کیلئے سمندر میں روانہ ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ماہی گیر دورانِ ماہی گیری کشتی سے گر کر ہلاک ہوگیا ہے۔ ابراہیم حیدری کے بغداد محلے کا رہائشی نوجوان 15 سالہ محمد رمضان ولد نذیر بغداد گذشتہ روز صبح کو اپنے ماہی گیر ساتھیوں کے ساتھ چھوٹی کشتی میں ابراہیم حیدری کے قریب سمندر میں ماہی گیری کیلئے روانہ ہوا جہاں شام گئے خبر ملی کہ مچھلیاں پکڑتے ہوئے نوجوان ماہی گیر سمندر میں گر کر ڈوب گیا جسے ماہی گیروں نے تلاش کرنے کی کوشش کی تاہم گہرے پانی کے باعث وہ ناکام رہے۔ بعدازاں میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کو اطلاع دی گئی جن کے اہلکاروں نے پہنچ کر رات تلاش کرنے کے بعد برآمد کرلی جو ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔ لاش گھر پر پہنچنے سے کہرام برپا ہوگیا۔ ماں اور بہنوں کو بے ہوشی کے دورے پڑ گئے۔ سینکڑوں ماہی گیروں کی موجودگی میں نوجوان کی مقامی قبرستان میں تدفین کردی گئی۔ فوتی ماہی گیر رمضان کے والد نذیر نے بتایا کہ رمضان محنتی اور اپنے والدین سے پیار کرنے والا نوجوان تھا۔ اکثر ماہی گیری پر جاتا تھا۔ ہم نے اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی تیاریاں شروع کیں لیکن افسوس ہے کہ ہم اسے دولہا بنتے نہ دیکھ سکے۔ اس کی لاش وصول کرنے کے بعد ہم غریبوں کی دنیا ہی اجڑ گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں