ملیر، باگڑی برادری کے گھروں پر مسلح افراد کا حملہ

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) تھانہ شاہ لطیف کی حدود میں واقع کوہی گوٹھ کے قریب باگڑی برادری کے 500 سے زائد گھروں پر مشتمل آبادی پر علاقے کے بااثر افراد کی قیادت میں 50 سے زائد مسلحہ لوگوں نے اچانک حملہ کردیا اور زبردستی گھروں میں داخل ہوگئے۔ اس موقع پر عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر بالوں سے گھسیٹ کر آبادی سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ تین عورتوں سندلان بائی، بھگونتی بائی، گنگا بائی، بھگوان داس سمیت پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے۔ شدید مزاحمت کے باعث حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
واقعے کے خلاف باگڑی محلے کے سینکڑوں افراد خون میں لت پت زخمیوں کو لیکر منزل پمپ کے نزدیک سڑک پر آگئے اورا دھرنا دیکر روڈ بند کردیا۔ ایس ایچ او تھانہ شاہ لطیف چوہدری عامر رفیق پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ پہنچ گئے اور مظاہرین سے مذاکرات کرکے حملہ آوروں کی گرفتاری کا یقین دلایا جس کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے رہنماؤں ایڈووکیٹ سونو گوپانگ، ایڈووکیٹ موسیٰ کولاچی، عوامی تحریک کے ستار گوپانگ، سنتوش کمار بھیل، سندر کمار اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے فیض حسین سندھی کوہی گوٹھ پہنچے اور زخمیوں و متاثرین سے ملاقات کی۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ با اثر افراد رحمت اللہ بروہی، منظور بروہی اور ان کے دیگر ساتھی ہمیں زبردستی بے دخل کرکے زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور مختلف بہانوں سے آئے دن حملے کرتے ہیں۔ گذشتہ روز ان لوگوں نے پھر حملہ کرکے عورتوں اور بچوں کو زخمی کیا۔ سماجی رہنماؤں نے متاثرین کے ساتھ تھانے شاہ لطیف پہنچ کر حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں