علی زیدی نے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے، خدا ڈنو شاہ

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) انڈیجینئس رائٹس الائنس کے مرکزی رہنما سید خدا ڈنو شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہازرانی علی زیدی کی جانب سے پورٹ قاسم میں پنجاب اور خیبرپختون خواہ کے لوگ بھرتی کئے جانے کے اعلان نے پورٹ قاسم کے متاثرین کے زخموں کو تازہ کردیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1973 سے متاثرین اور مقامی افراد کو نوکریوں میں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا سسٹم کے تحت کبھی بھی بھرتیاں نہیں ہو پائیں اور ہر دور میں مقامی کوٹا پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے۔ ظلم کی انتہا تو 2003 کے بعد ہونے والی بھرتیوں میں کی گئی جس میں ایم کیو ایم کے تعصب پرست بابر غوری نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے 700 سے زائد ورکرز بھرتی کیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہازرانی کا بیان بھی نفرت انگیز، تعصب پرستی اور سندھ دشمنی کی عکاسی کرتا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ علی زیدی نے تعصب پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ 82 فیصد لوگ سندھ صوبے کے بھرتی کیے گئے ہیں تو یہ بیان بھی بددیانتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورٹ قاسم میں نئی بھرتیوں سے پہلے 2003 میں ہوئی بھرتیوں کی نیب تحقیقات کرائی جائے اور غیر قانونی بھرتی کئے گئے لسانی گروہ کے افراد کو نوکریوں سے نکالا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں