ملیر، باگڑی برادری کا انصاف کے لئے احتجاج

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ایک ہفتہ قبل ملیر کے کوہی گوٹھ کے قریب باگڑی برادری کے گوٹھ پر علاقے کے بااثر افراد کی جانب سے حملہ کر کے عورتوں سمیت پانچ افراد زخمی کرنے والے واقعے کے خلاف حدود کے تھانے شاہ لطیف پر ملزمان رحمت الله بروہی، منظور بروہی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا لیکن پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی۔ اس سلسلے میں باگڑی برادری کی جانب سے کوہی گوٹھ میں بگھوانداس، رتنی بائی، لالو، بھاگ بھری اور دیگر کی رہنمائی میں احتجاجی مظاہرہ کر کے مذکورہ ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج میں سندھی مزدور تحریک کے رہنما عبدالستار گوپانگ، سنتوش کمار بھیل،زبیر نوناری اور دیگر کارکنان نے شرکت کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے اور وہ باگڑیوں پر حملے اور بااثر افراد کی گرفتاری کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر رتنی بائی، بگھوانداس اور دیگر کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ 500 سے زائد گھروں میں 4000 لوگ آباد ہیں جو پیپلز پارٹی کے ووٹرز ہیں لیکن لینڈ مافیا کے بااثر افراد ہم غریبوں پر حملہ کر کے بے دخل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ گوٹھ کی زمین بیچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں رحمت اللہ بروہی، منظور بروہی اور دیگر نے 50 سے زائد گھروں میں زبردستی داخل ہو کر بگھوانداس اور تین عورتوں سمیت پانچ افراد کو زخمی کیا جس کے خلاف انہوں نے تھانہ شاہ لطیف میں مقدمہ درج کرایا لیکن پولیس اب تک ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے نتیجے میں ملزمان ہتھیار اٹھا کر گوٹھ کے باہر فائرنگ کر کے ہمیں مقدمے سے ہاتھ اٹھانے اور گوٹھ خالی کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ بصورت دیگر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں جبکہ سندھی مزدور تحریک کے رہنماؤں سنتوش کمار، عبدالستار گوپانگ اور زبیر نورانی نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی ملیر سے مطالبہ کیا ہے کہ باگڑی برادری کے گھروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فل فور کاروائی کر کے ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے بصورت دیگر سندھ بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں