ملیر، ٹیکسٹائل مل سے مزدور بے دخل، خودسوزی کا اعلان

ملیر (نامہ نگار،منظورسولنگی) قائدآباد کے علاقے میں نجی ٹیکسٹائل ملز انتظامیہ نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر 450 مزدوروں کو ملازمت سے فارخ کرکےان کے گھروں کے چولہے گل کر دیے۔ اس سلسلے میں ملز انتظامیہ نے ملازمین سے رضاکارانہ ملازمت چھوڑنے کے کاغذات پر جبری دستخط لے کر تنخواہیں دینے سے بھی انکار کردیا ہے جس کے باعث ملز ملازمین سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ بیروزگار ہونے والے ملازمین شفقت، جہان شان، رشید احمد، رفیع اللہ و دیگر نے الکرم ٹیکسٹائیل مل انتظامیہ پر الزم عائد کیا ہے کہ انہوں نے سنکڑ وں ملازمین کو بلا جواز نوکریوں سے نکال کر بیروزگار کردیا ہے جبکہ حکومتِ وقت نے تمام تر کارخانوں اور صنعتوں کو ملازمین بیروزگار نہ کرنے اور کو تنخواہیں دینے کا پابند کیا ہے۔ تنخواہیں نہ ملنے کے باعث ہمارے گھروں میں تنگ دستی اور فاقے پڑ گئے ہیں، اور تو اور بیمار بچوں کو ڈاکٹرز کے پاس بھی لے جانے کے اہل نہیں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم غریب لوگ کہاں جائیں؟ مل انتظامیہ تنخواہیں نہیں دے رہی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کہیں اور مزدوری نہیں کر سکتے لہٰذا مجبور ہو کر خودسوزی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الکرم ٹیکسٹائل ملز انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ملازمین کا معاشی قتلِ عام بند کرے اور انہیں تنخواہوں کی ادائیگی کرے بصورت دیگر وہ اپنے بیمار بچے سمیت مل کے گیٹ کے سامنے خودسوزی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں