ملیر، سسرال کی جانب سے بہو پر بدترین تشدد، والد کی پریس کانفرنس

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) سومار گوٹھ کے مکین ضعیف شخص نے چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ہمراہ موسیٰ گوٹھ میں بیائی بیٹیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ملیر میں پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر عمر رسیدہ غلام ربانی جوکھیو نے کہا کہ میری نوجوان بیٹی حمیرہ زوجہ ولی محمد ولد محمد خان جوکھیو پر ایک عرصے سے تشدد کا نشانہ بنتی رہی۔ گذشتہ دنوں میرے داماد ولی محمد ولد محمد خان نے اپنی ماں کے کہنے پر حمیرہ کے اوپر بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے اس پر وحشیانہ تشدد کیا اور پھر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ میری بیٹی دہائیاں دیتی رہی لیکن کسی نے اس کی مدد نہیں کی بلکہ گھر کے دیگر افراد اس کے جھلسنے کا تماشا دیکھتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے جیسے ہی اطلاع ملی تو میں اپنی مذکورہ بیٹی کے گھر پہنچا۔ فوری طور پر تشویشناک حالت میں سول ہسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا جہاں وہ 90 فیصد جسم جھلسنے سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حمیرہ اور عارفہ موسیٰ گوٹھ کے مکین جوکھیا برادری کے نوجوانوں کو بیا کر دی تھیں۔ ظالموں نے میری دونوں بچیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں لیکن ظلم کی انتہا ہو گئی جب انہوں نے میری بیٹی کو آگ میں جھونک کر مارنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے خلاف تھانہ شاہ لطیف میں ایف آئی آر درج کرانے گیا لیکن پولیس نے میری ایک بھی نہ سنی۔ یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ عمر رسیدہ غلام ربانی جوکھیو، ان کے بیٹے غلام صفدر جوکھیو، بولا خان جوکھیو اور چار بیٹیوں نے حکومتِ وقت، آئی جی سندھ، اےڈی آئی جی کراچی، ایس ایس پی ملیر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم ولی محمد جوکھیو، نادر جوکھیو، محمد خان جوکھیو اور مسمات حلیمہ جوکھیو کو گرفتار کر کے سزا دی جائے ۔
بعدازاں ایس ایس پی ملیر علی رضا کی ہدایت پر ڈی ایس پی شاہ لطیف فیصل اور ایس ایچ او شاہ لطیف عامر رفیق پریس کانفرنس کرنے والے متاثرین کے پاس پہنچ گئے اور متاثرہ لڑکی کے والد غلام ربانی جوکھیو کو ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ساتھ لیکر گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں