ملیر، خمیسو خان گوٹھ میں پانی کی شدید قلت

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) یونین کونسل چوہڑ کے قدیمی گوٹھ خمیسو خان میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ شدید گرمی میں عورتیں اور معصوم بچے دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ اس سلسلے میں سماجی رہنماؤں کی جانب سے صحافیوں کو علاقے کا دورہ کروایا گیا۔ پانی کی اسکیم کھنڈرات میں تبدیل نظر آئی اور سالوں سے پانی کے پڑے ہوئے پائپ ناکارہ ہوچکے ہیں۔
سماجی رہنماؤں ارشد، جمع جوکھیو، مشتاق حکیم، الہڈنو جوکھیو، امام الدین جوکھیو، امداد جوکھیو اور نوید جوکھیو نے صحافیوں کو بتایا کہ گذشتہ دس سالوں سے علاقہ کے 2000 سے زائد مکین پانی کی بوند کو ترس گئے ہیں۔ اس سے قبل درگاہ سے پانی مہیا کیا جاتا تھا جہاں سے بڑی تعداد میں چوری کے کنیکشن لگادیے گئے جس کے باعث پانی آنا بند ہوگیا ہے۔ ایم این اے جام کریم نے ڈھائی سال قبل پانی کی اسکیم دی جو تاحال نامکمل پڑی ہے۔ ایم پی اے کو شکایت کرتے ہیں تو وہ ہتک آمیز رویہ اختیار کرکے سماجی رہنماؤں کی بے عزتی کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت قیامت خیز گرمی میں معصوم بچے اور گھروں میں موجود عورتیں پانی کیلئے شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، ضلع کونسل کراچی، ایم این اے اور ایم پی اے سے مطالبہ کیا کہ پانی کی اسکیم عید سے قبل مکمل کرکے ہمیں بھی عید کی خوشیوں میں شریک کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں