ملیر، سسرال کے تشدد سے زخمی ہونے والی خانون فوت

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) 25 اپریل کو گھریلو تنازع کے باعث مبینہ طور پر آگ میں جھلس کر زخمی ہونے والی 27 سالہ خاتون عمیرہ جوکھیو سول ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد گذشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوگئی۔ اطلاع ملنے پر تھانہ شاہ لطیف کے تفتیشی افسر نے میت واپس ہسپتال بھجوا دی جس کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔ میت کے گھر پہنچنے پر متاثرہ گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی اور پورے گھر میں سوگ کا سماں چھا گیا۔ واقعے سے متعلق سینیئر صحافی اور تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کے والد غلام ربانی نے ملیر کے صحافیوں کو بتایا کہ تین سال قبل اس نے ملیر کے موسی گوٹھ میں ولی محمد جوکھیو سے ان کی بیٹی عمیرہ جوکھیو کی شادی کروائی تھی جس سے اولاد نہ ہوسکی۔ گھر میں اکثر جھگڑے رہتے تھے اور ہم پہنچ کر صلح کروا دیتے تھے تاہم یکم رمضان کو ولی محمد نے غصے میں آکر اپنی موٹر سائیکل سے پیٹرول نکال کر میری بچی عمیرہ کو اپنی ماں حلیمہ کی مدد سے کمرے میں لے جاکر پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو بیٹیاں عمیرہ اور عارفہ کو موسیٰ گوٹھ کے دو بھائیوں ولی محمد اور نادر سے شادی کروائی تھی۔ میری پہلی بچی جو واقعے کی عینی شاہد ہے مجھے بتایا کہ اس کی بہن عمیرہ کو اس کے خاوند ولی محمد نے اس کے سامنے کمرے میں لے جاکر پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔ واقعے سے متعلق میرے دوسرے داماد نادر نے فون کیا کہ میری بھابی عمیرہ کو گیس کے چولہے سے آگ لگ گئی ہے جسے فوری طور پر سول ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ چھ روز زیرِ علاج رہنے کے باوجود جان بر نہ ہوسکی۔ اس کا جسم 90 فیصد جل گیا تھا۔
غلام ربانی کا مزید کہنا تھا کہ تھانہ شاہ لطیف میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے جس میں نامزد ولی محمد اور اس کی ماں حلیمہ ہے جن میں سے صرف حلیمہ کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ولی محمد فرار ہے جسے فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ دوسری جانب فوت ہونے والی خاتون کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد موسیٰ گوٹھ کے قبرستان میں تدفین کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں