ملیر، سسرال سے تنگ آکر نوجوان لڑکی نے خودکشی کرلی

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ایوب گوٹھ کے رہائشی 60 سالا غریب اور بیمار مزدور محمد اسلم میمن کی 22 سالا بیٹی اقراء میمن نے سسرالیوں کے مبینہ ظلم کے خلاف والد کے گھر میں خودکشی کرلی جس کی میت کو غربت کے باعث ایدھی ٹرسٹ کی جانب سے کفن دیا گیا اور آبائی علاقے لکیہ غلام شاہ میت لے جانے میں مدد کی۔ لڑکی کے والد محمد اسلم میمن نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ لکیے غلام شاہ کے رہائشی ہیں تاہم بڑے عرصے سے بچوں کے روزگار کی خاطر ایوب گوٹھ میں آباد ہیں جہاں سے ان کی نوجوان بیٹی 22 سالا اقراء میمن کی شادی سکھر میں محمد حسین مہر سے کروائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ میری بچی جب بھی میرے گھر آتی تو واپس جانے سے انکار کرتی تھی۔ معلوم کرنے پر اس نے بتایا کہ شوہر، سسر اور دیور اس پر تشدد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران زبیر خروس نامی شخص مسلحہ افراد لیکر گھر آتا اور اقراء کو زبردستی سسرال بھیجنے کیلئے دھمکیاں دیتا تھا۔ میں ایک دو مرتبہ خود اقراء کو اس کے سسرال لے گیا لیکن اس مرتبہ اس نے کسی بھی حالت میں واپس جانے سے انکار کردیا تھا۔ میں نے تھانہ سہراب گوٹھ میں مقدمہ بھی درج کروا رکھا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں دوسرے روضے کو ملازمت پر گیا جہاں مجھے اطلاع ملی کہ میری بچی نے زہر کھا کر خودکشی کرلی ہے۔ عباسی شہید ہسپتال، تھانہ سہراب گوٹھ اور ایدھی ٹرسٹ کے لیٹر موجود ہیں۔ جب میت دفنانے گئے تو بچی کے شوہر محمد حسین مہر نے زبردستی ڈیڑھ سال کا بچہ ہم سے چھین لیا اور اب بچی کے قتل کا الزام مجھ پر لگاتے ہوئے زیورات اور لاکھوں روپے نقد رقم کی واپسی کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر سے اپیل کی کہ وہ واقعے کی تحقیقات کروا کر ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد کریں اور میرے خاندان کو تحفظ فراہم کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں