ملیر، مقتولہ حمیرا کیس میں نامزد شوہر نے گرفتاری دے دی

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) موسیٰ گوٹھ میں مبینہ طورپر آگ لگا کر بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں شوہر ولی محمد جوکھیو نے تھانہ پہنچ کر گرفتاری پیش کردی ہے جبکہ مقتولہ کی ساس حلیمہ پہلے ہی تھانہ شاہ لطیف پولیس کی حراست میں ہے۔گرفتار شوہر کو ملیر عدالت میں پیش کرکے 5 مئی تک ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سول ہسپتال انتظامیہ، پولیس اور ورثاء کے ایک دوسرے سے عدم تحفظ پر کیس الجھ کر رہ گیا ہے۔
سول ہسپتال انتظامیہ نے عجلت میں موت کے سرٹیفکیٹ پر والد کی جگہ شوہر کا نام اور تھانہ شاہ لطیف کی جگہ رزاق آباد تھانہ در ج کردیا ہے جبکہ تھانہ شاہ لطیف کے تفتیشی افسر مجتبیٰ باجوہ نے بتایا کہ ورثاء کی جانب سے پولیس سے تعاون نہیں کیا جارہا۔ 25 اپریل کو واقعہ پیش آیا اور 28 اپریل کو مقدمہ درج کیا۔ ہسپتال انتظامیہ اور ورثاء نے بروقت پولیس کو اطلاع بھی نہیں دی جس کے باعث کیس الجھ کر رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ ضرورت پیش آئی تو قبر کشائی بھی کی جائیگی۔ دوسری جانب خاتون کے والد غلام ربانی جوکھیو کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اور تھانہ شاہ لطیف پولیس تعاون نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ نہ جانے کس کے کہنے پر پولیس کیس خرا ب کر رہی ہے۔ مقدمہ درج کرنے کیلئے مجھے 11 گھنٹے تھانے پر بٹھایا گیا۔مرضی سے مقدمہ تحریر کرکے پڑھائے بغیر دستخط لےلیے گئے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ و دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ مجھے انصاف دلوایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں